ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

صدرمملکت اور وزیراعظم کی مدرسے میں دھماکے کی مذمت

صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے بچوں کے مدرسے میں دھماکے کی مذمت کی ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراطلاعات شبلی فراز نے بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ پرحملہ کرنےوالوں کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والوں کے مذموم عزائم خاک میں ملائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے بھی پشاور دھماکے کی مذمت کی ہے۔ محمود خان نے کہا کہ طلبہ کو نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت اور ظالمانہ قدم ہے۔ واقعے کے ذمہ دار قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے ہنگامی اجلاس بھی طلب کرلیا ہے۔

نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز نے بھی پشاور مدرسے میں دھماکے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو ہونے والے نقصان نے انتہائی رنجیدہ کردیا ہے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ جن ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں ان کے دکھ کا تصور اور ازالہ ممکن نہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے واقعہ کہ مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے لیے مدرسہ سافٹ ہدف تھا۔انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر سے نمٹنے کے لیے اقدامات کریں گے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ نیکٹا نے خیبرپختونخوا حکومت کو الرٹ جاری کیا تھا۔

شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات کا خدشہ تھا لیکن مقام کا علم نہیں تھا۔ ہم خطے میں دہشت گردعناصر سے نمٹنا جاتنے ہیں۔

خیال رہے کہ پشاور کے علاقے دیرکالونی میں ایک مدرسے میں دھماکے سے 7 طلبہ شہید اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

مذکورہ مدرسہ مسجد سے متصل ہے اور وہاں علاقے کے بچے قران کی تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ اے آئی جی شفقت ملک کے مطابق کم سے کم پانچ کلو بارودی مواد میں چھروں اور کیلوں کا استعمال کیا گیا جس سے نقصان زیادہ ہوا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں