ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

یمن فوج بھیجنے کے لئے برطانیہ مشروط آمادہ

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ نے یمن میں اپنی فوج داخل کرنے کے لیے مشروط آمادگی ظاہر کردی۔ وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ حالات ٹھیک رہنے کی صورت میں ان کی حکومت یمن میں فوج بھیجنے پر غور کر سکتی ہے۔ پارلیمان کی خارجہ امور کی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی شمولیت کے لیے کوئی خاص درخواست یا تجاویز نہیں دی گئیں، لیکن حالات ٹھیک رہنے کی صورت میں اس پر غور کیا جاسکتا ہے۔ جانسن نے کہا کہ یمن میں جنگ بندی حوصلہ افزا ہے اور انہیں امید ہے کہ اس سے سنجیدہ سیاسی پیش رفت ہو گی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کمیٹی کے سربراہ ٹوباس ایل ووڈ نے سوال کیا تھا کہ کیا حکومت جنگ زدہ قوم کے استحکام میں مدد کے لیے فوج بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے،اس کے جواب میں جانسن کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔ دوسری جانب فرانس میں تعینات یمنی سفیر نے کہا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی جنگ کو ممکنہ حد تک طول دینا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر ریاض یاسین نے کہا کہ حوثی ملیشیا کی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں یمن انسانی بحران کے دھانے پر کھڑا ہے۔ حوثی ملیشیا انسانی بحران سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہے۔ ادھر یورپی یونین نے کہا کہ سعودی عرب کا امن اقدام یمن بحران کے خاتمے کا اعلان ثابت ہوگا۔ یورپی یونین نے اپنے بیان میں بحران کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کے اقدام کا خیر مقدم کیا۔ یورپی یونین میں سعودی عرب کے سفیر سعد عریفی کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ عالمی برادری کو یمنی باغیوں پر دبائو ڈالنا ہوگا تاکہ وہ ریاض حکومت کی پیش کش کو قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں