ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

مارنے پیٹنے اور تہمت لگانے کا فائدہ نہیں، اگر کسی صحافی نے کچھ غلط کہا تو عدالت جائیے: حامد میر

سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر پر طاقت ور ترین حلقوں پر کھلے عام سخت تنقید کرنے کے باعث جیو ٹی وی کی جانب سے پابندی عائد کر دی گئی ہے جس پر حامد میر نے آج پھر ٹویٹر سنبھالہ اور ایک مرتبہ پھر سے صحافی اسد طور کے حق میں بولتے ہوئے پیغام جاری کیا ۔

تفصیلات کے مطابق حامد میر نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے خاتون صحافی ” نسیم زہرا “ کے پروگرام کا ویڈیو کلپ شیئر کیا اور کہا کہ ” اٹھانا ، مارنا پیٹنا اور پھر کہنا کہ لڑکی کے بھائیوں نے کیا ہے اسکا کوئی فائدہ نہیں اگر کسی صحافی نے غلط بات کہہ دی تو عدالت میں جائیے،نسیم ظہرہ نے اصولی طور پر درست بات کی ہے لیکن اسد طور کو مارنے سے پہلے جھوٹے مقدمات میں الجھایا گیا اب پھر یہی ہو رہا ہے۔

 

اس سے قبل حامد میر نے ٹویٹ کرتے ہوئے ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جو مشکل کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ انہوں نے لکھا کہ

’جو دوست خطرات مول لیکر میرے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں میں ان سب کا شکرگزار ہوں اور سب کے لئے دعا گو ہوں آئیے سب مل کر دعا کریں کہ ہمارے وطن میں آئین اور قانون کی حکمرانی قائم ہو جائے کوئی طاقتور قانون کو اپنی لونڈی بنا کر ظلم و زیادتی کی نئی داستانیں رقم نہ کر پائے آمین‘

یاد رہے کہ صحافی اسد طور تو گھر میں نامعلوم افراد کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس پر حامد میر بھی احتجاج میں شریک ہوئے اور سنگین الزامات لگائے ۔الزامات کی سنگینی کے پش نظر جیو نیوز نے انہیں غیر معینہ مدت تک شو کرنے سے روک دیاہے ۔

پابندی لگنے کے بعد حامیر نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” یہ نیا نہیں، “ماضی میں دو دفعہ مجھ پر پابندی لگائی گئی، دو دفعہ نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے، قاتلانہ حملے میں بچ نکلا لیکن آئین میں دیئے گئے حقوق کیلئے آواز بلند کرنا نہیں روکا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ اس وقت میں کسی بھی قسم کے نتائج کیلئے تیار ہوں اور کسی بھی حدتک جانے کو تیار ہوں کیونکہ وہ میری فیملی کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ “

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں