ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

شیخ رشید لال حویلی کو یونی ورسٹی بنانے کا اعلان کیوں کیا؟

وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے راولپنڈی میں اپنی ملکیت لال حویلی کو یونی ورسٹی میں تبدیل
کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج فار ویمن رالپنڈی میں اکیڈمک ہال کی افتتاحی
تقریب میں شیخ رشید نے یونی ورسٹی بنانے کا اعلان کر دیا تاہم یہ نہیں بتایا کہ لال حویلی کب
گرائی جائے گی؟
مجوزہ یونی ورسٹی میں طلبہ کو مفت تعلیم دی جائے گی یا پھر دیگر اداروں کی طرح کمرشل بنیادوں
پر چلائی جائے گی؟

شیخ رشید داخلہ کے وزیر ہیں لیکن تمام ہی وزارتوں پر بولنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ عوامی سیاست
کرنے میں ان سے کوئی آگے نہیں۔ جو آئے منہ میں کہہ گزرتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ انہوں نے ویمن کالج
میں دوران تقریر کیا۔ کہتے ہیں راولپنڈی میں جہاں بھی کوئی خالی پلاٹ نظر آئے اس پر کالج اور
یونیورسٹیز بنائی جائیں۔
انہوں نے یہ حکومت سے کہا ہے یا پرائیویٹ سیکٹر کو جو پہلے ہی تعلیم کے نام پر والدین کو
لوٹ رہے ہیں۔

دنیا بھر میں تعلیم فراہم کرنا ریاست کی زمہ داری ہوا کرتی ہے لیکن ہمارے وطن عزیز میں ریاست نے
یہ انتہائی اہم زمہ داری پرائیویٹ سیکٹر پر ڈال دی ہے۔ نجی شعبہ ہر گلی محلے میں تعلیمی ادارے
بنائے جارہا ہے۔
انگلش میڈیم تعلیم کے نام پربڑی بڑی چینزبن چکی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے اسکول بھی ایک دو دو کمرہ
کے مکانوں میں کھولے جارہے ہیں۔
ملک بھر میں شہر چھوٹے ہوں یا بڑے اور گاؤں دیہات سب ہی جگہ تعلیمی اداروں کی بھرمار ہے۔ ان
تعلیمی اداروں سے بچے ڈگریاں لے کر تو نکل رہے ہیں لیکن معاشرے اور ملکی تعمیر و ترقی میں
ان کا کوئی کردار دیکھائی نہیں دیتا۔ سڑکوں پر ٹریفک کی صورت حال دیکھیں اور گاڑیوں سے
سگریٹ اور پان کی پیک سر نکال کے باہر پھینکتے ہوئے۔

اب اگر پڑھے لکھے سیاست دانوں کی پارلیمنٹ دیکھ لیں وہاں کس طرح سیاستدان غیراخلاقی اور
نازیبا زبان استعمال کر رہے ہوتے ہیںَ اس کے بچوں اور نوجوان نسل پر کیا اثرات پڑیں گے؟ اس
جانب کبھی سوچا ہے کسی نے؟
پھر شیخ رشید صاحب کی اس بات کو بھی کوئی کس طرح سنجیدہ لے سکتا ہے جو اپوزیشن کے خلاف
بولنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔ اب انہوں نے جس تعلیمی ادارے کی تعمیر کا اعلان کیا ہے کیا
وہ اس بات کی یقین دہانی کراسکتے ہیں کہ یہ ادارہ بزنس کے بجائے حقیقی تعلیم کی ترویج کے لیے ہو گا؟

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں