ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اقوام متحدہ متنازع قرار دیے گئے علاقوں میں مظالم کا نوٹس لے ، پاکستان

نیو یارک (اے پی پی)اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل نمائندے، سفیر عامر خان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی طرف سے متنازع قرار دیے گئے علاقوں میں غیر ملکی قبضے کے تحت ہونے والے حالات پر اپنی توجہ مرکوز کرے اور وہاں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام سے نمٹنے کے لیے ’’فیصلہ کن اقدام‘‘ کرے۔ جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے
ہوئے پاکستان کے قائم مقام مستقل نمائندے، سفیر عامر خان نے عالمی برادری سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسلامو فوبیا اور اقلیتوں پر حملوں کی بڑھتی ہوئی لہر کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ جنیوا میں قائم 47رکنی کونسل کی سالانہ رپورٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان کے سفارتی نمائندے نے کہا کہ ا نسانی حقوق کونسل کو اپنے اغراض مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی حقوق کی صورتحال پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے کشمیر اور فلسطین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے جن علاقوں کو متنازع اور غیر ملکی قبضہ قرار دیا گیا ہے ان پر بھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حالات میں وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا زیادہ امکان ہونا فطری بات ہے ۔ قابض طاقتیں مقبوضہ علاقوں میں سخت قوانین نافذ کرنے کی اجازت دیتی ہیں تاکہ وہ اپنی سیکورٹی فورسز کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے استثنا فراہم کرسکیں اور اس طرح بین الاقوامی جانچ سے بھی بچا جاسکے ۔ اپنے ریمارکس میں، عامر خان نے خبردار کیا کہ کچھ حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کی سیاسی گفتگو میں اسلام فوبیا کو مرکزی دھارے میں شامل کیا گیا ہے جن میں مسلمانوں کو بے دخل کرنے، حجاب کی سیاست اور سنسر شپ، قرآن پاک کو جلانے، اسلامی نشانات اور مقدس مقامات کی توڑ پھوڑ جبکہ آزادی اظہار کے نام پر تکلیف دہ خاکوں اور مقابلوں کے ذریعے بھڑکانا اور اکسانا شامل ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان چند روز قبل اپنے ہمسایہ ملک (بھارت) میں مسلمانوں کی متعدد مساجد، مکانات اور دکانوں کی ہونے والی توڑ پھوڑ کی شدید مذمت کرتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یہ بے ہودہ حملے گزشتہ ہفتے سے جاری ہیں۔ عامر خان نے 193 رکنی جنرل اسمبلی کی جانب سے اسلامو فوبیا کو نسل پرستی کے عصری مظہر کے طور پر تسلیم کرنے کا خیرمقدم بھی کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے، پچھلی 2 دہائیوں کے دوران کچھ حلقوں کی طرف سے دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ جوڑا گیا ہے، جس سے دائیں بازو، غیر ملکی اور متشدد قوم پرستوں، انتہا پسندوں اور دہشت گرد گروہوں کے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں