اسلام آباد(صباح نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کو میوزیم میں رکھنا چاہیے۔جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ سے وزیراعظم عمران خان کو ملنے والے تحائف کی معلومات پبلک کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ اٹارنی جنرل مصروفیت کی وجہ سے پیش نہ ہوئے اور وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود پیش ہوئے اور وقت دینے کی درخواست کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے وقت نہ دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ وقت دیا تو کیس غیر مؤثر ہوجائے گا، جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیوں کیا سامان بک جائے گا ؟ وزیراعظم نہ بھی رہیں تو
بھی درخواست غیرمؤثر نہیں ہوگی ، آپ حکومت ہیں میں تو کہتا ہوں کہ جو تحائف لوگ گھروں کو لے گئے ان کو بھی واپس میوزیم میں رکھیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر عدالت احکامات جاری کرتی ہے تو ہم عمل درآمد کریں گے۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ آپ کو کس نے عمل درآمد سے روکا ہے ، بیرون ملک سے ملنے والے تحائف میوزیم میں لگے ہوں تو لوگ بھی خوش ہونگے، بہت ساری چیزوں کی تاریخی اہمیت ہوتی ہے، اگر یہ کام شروع ہوجائے تو تحائف منظرعام پر آنے سے لوگ خوش ہوں گے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی درخواست پر ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل کو عدالتی معاونت کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 8دسمبر تک ملتوی کردی۔