اسلام آباد: ہائی کورٹ نے فیصل واوڈا کی اپنے خلاف الیکشن کمیشن میں نااہلی کیس کی سماعت رکوانے کی درخواست خارج کردی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کی درخواست پر سماعت کی۔ فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن کا 12 اکتوبر کا فیصلہ چیلنج کرتے ہوئے سماعت رکوانے کی درخواست کی۔ فیصل واوڈا کے وکیل نے بتایا کہ یہ کیس سینیٹ الیکشن سے متعلق ہے، الیکشن کمیشن کامیابی کے 60 روز میں اہلیت کا فیصلہ کرسکتا ہے، الیکشن کمیشن کی کارروائی روک کر فیصل واوڈا کیخلاف فیصلہ غیر قانونی قرار دیا جائے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے فیصل واوڈا کے وکیل سے کہا کہ آپ کو کیا ڈر ہے الیکشن کمیشن کو فیصلہ کرنے دیں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ 60 روز کی مدت میں فیصل واوڈا کیخلاف درخواست آچکی تھی، آپ اپنی بے گناہی ثابت کریں، اگر آپ کے ہاتھ صاف ہیں تو الیکشن کمیشن کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے دیں، آپ کو الیکشن کمیشن کی کارروائی سےکیاڈر ہے؟۔ عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی۔
خیال رہے کہ فیصل واوڈا کی نااہلی کا کیس الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے انتخاب میں حصہ لینےکے لیےکاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت جھوٹا حلف نامہ جمع کرایا اور اپنی دہری شہریت چھپائی۔
