ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

میلکم ایکس قتل کیس کے ملزم 56 برس بعد بری

نیویارک: بری ہونے والے محمد عبدالعزیز عدالت کے باہر گفتگو کررہے ہیں

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں انسانی حقوق کے علمبردار میلکم ایکس قتل کیس کے 2 ملزمان کو 56 برس کے بعد ایک عدالت نے بے قصور قرار دیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ملزمان انصاف کی تاریخی موت کا شکار ہو ئے۔ امریکا میں انسانی حقوق کے علمبردار میلکم ایکس کا1965ء میں قتل کر دیا گیا تھا۔ محمد عبدالعزیز اور خلیل اسلام کو ان کے قتل کا قصور وار قراردیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے اوپر عائد الزامات کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر رکھا تھا۔ اب 56 برس بعد نیویارک کے ڈسٹرکٹ جج سائرس وینس نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شواہد کی بنیاد پر وہ ان دونوں ملزمان کو بے قصور قرار دیتے ہیں۔ جج وینس نے تسلیم کیا کہ محمد عبدالعزیز اور خلیل اسلام کو غلط سزائیں سنائی گئی تھیں۔ وہ دونوں بے قصور تھے اور یہ دونوں افرادانصاف کی تاریخی موت کا شکار ہو گئے۔ وینس نے بعد میں نیویارک ٹائمز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہیہ دونوں جس انصاف کے مستحق تھے وہ انہیں نہیں ملا۔ ہم اس کے علاوہ اور کیا اعتراف کرسکتے ہیں کہ غلطی ہوئی، ایک سنگین غلطی۔خلیل اسلام 12برس قبل ہی وفات پا چکے ہیں۔ محمد عبدالعزیز نے فیصلے کے بعد کہا کہ انہیں ایسے بدعنوان نظام کا سامنا کرنا پڑا جسے امریکا میں سیاہ فام بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ عدالتی نظام اس نقصان کی بھی ذمے داری قبول کرے جو انہیں 55 برس تک بھگتنا پڑا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق مین ہیٹن ڈسٹرکٹ جج کے دفتر اور وکلا نے 22 ماہ تک مشترکہ طور پر اس کیس کی تفتیش کی۔ انہوں نے پایا کہ استغاثہ، ایف بی آئی اور نیویارک پولیس نے شواہد کو چھپا یا۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں