ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

 گنڈا پورکیس: خلاف ورزی ہوتی رہے تو ضابطہ اخلاق بنانے کا کیا فائدہ ، چیف الیکشن کمشنر

چیف الیکشن کمشنر نے علی امین گنڈا پور کے خلاف کیس کی سماعت میں ریمارکس دیے کہ علی امین گنڈا پورپراثرنہیں ہورہا اور وہ نہ ادارے کی عزت کررہے ہیں۔ خلاف ورزی ہوتی رہے تو ضابطہ اخلاق بنانے کا کیا فائدہ ہوگا، نرمی کی تو پھر تو الیکشن ہی نہیں ہو سکتے،  جو جتنا بڑا ہوتا ہے وہ اتنی ہی خلاف ورزی کرتا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں ڈیرہ اسماعیل خان بلدیاتی انتخابات میں  وفاقی وزیر علی امین گنڈا پورکے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے پر سماعت ہوئی۔

علی امین کے وکیل نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ ان کے مؤکل کو کورونا ہے وہ اس لیے حاضر نہیں ہوسکے۔

اس پر اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ علی امین گنڈا پور نے اس کے بعد بھی خلاف ورزی کی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کاکہنا تھا کہ باربارضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہورہی ہے، علی امین گنڈا پورپراثرنہیں ہورہا، نہ ادارے کی عزت کررہے ہیں، آپ اپنے کلائنٹ کو کہیں کہ وہ کورونا میں الیکشن مہم نہ چلائیں،  ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ایکشن ہوگا۔

 چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ امیدوار ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرنااہل بھی ہو سکتا ہے، ہم ڈی آئی خان کیس کو مثال بنائیں گے،  ابھی اس کیس میں اور بھی شکایات موصول ہوئی ہیں ، خلاف ورزی ہوتی رہے تو ضابطہ اخلاق بنانے کا کیا فائدہ ہوگا، نرمی کی تو پھر تو الیکشن ہی نہیں ہو سکتے،  جو جتنا بڑا ہوتا ہے وہ اتنی ہی خلاف ورزی کرتا ہے۔

دورانِ سماعت الیکشن کمیشن میں علی امین گنڈا پور کی انتخابی مہم میں شرکت کی ویڈیوز چلائی گئی۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 4 فروری تک خلاف ورزی ہوتی رہے تو ضابطہ اخلاق بنانے کا کیا فائدہ ہوگا ملتوی کردی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں