
کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کی زیر صدارت جماعت اسلامی کراچی کے تحت اہل کشمیر سے اظہار یکجہتی کے لیے جمعہ کو ادارہ نور حق میں ’’کشمیر کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا ۔کانفرنس میں سیاسی و سماجی،سول سوسائٹی، تاجر، وکلا،اساتذہ،علما کرام سمیت دیگر شعبہ زندگی سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی اور مظلوم کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔کشمیر کانفرنس کی نظامت کے فرائض نائب امیر کراچی مسلم پرویز نے ادا کیے جبکہ سابق رکن سندھ اسمبلی حمید اللہ خان نے کشمیر کے مسئلے پرقرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر سب نے منظور کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان کی تکمیل کشمیر کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ حکومت کا معذرت خواہانہ رویہ قابل مذمت ہے۔ عزم و ایمان کے ساتھ جہاد کیا جائے تو کبھی شکست نہیں ہوسکتی۔ افغانستان میں مجاہدین کی فتح نے بھی بتایا کہ ایمان کی طاقت کو شکست نہیں ہوسکتی۔ کشمیری عوام کو ظلم سے نجات دلانا مالی،انتظامی اور عسکری لحاظ سے اس لیے ضروری ہے کہ ریاست ان کی مدد کرے اور جب تک ہماری فوج آگے نہیں بڑھے گی مسئلہ کشمیر پر کوئی بات تک نہیں کرے گا۔ ریاست اورفوج جرأت کا مظاہرہ کریں گے تو بھارت خود مذاکرات کے لیے آگے بڑھے گا۔مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سیاسی، مذہبی سمیت تمام جماعتوں کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ 74 سال ہوگئے اقوام متحدہ نے قراردادوں پر عمل نہیں کرایا۔اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق آرٹیکل 151 کے مطابق پاکستان کااپنی افواج کے ذریعے کشمیریوں کی مدد کرنا جائزہے۔ اقوام متحدہ نے کشمیری عوام کے لیے حق خود ارادیت کا فیصلہ کیا۔اقوام متحدہ بڑی طاقتوں کی لونڈی کا کردار ادا کررہا ہے۔اقوام متحدہ اپنے من پسند فیصلے پر تو عمل کرالیتا ہے لیکن مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں کرتا۔ مسلمانوں کو اپنی بقا کی جنگ خود لڑنا ہوگی۔ مسلم لیگ ن کے سابق سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ اہل کشمیر سے اظہار یکجہتی کیا ہے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے قاضی حسین احمد ؒ کی سفارش پر ہی 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کیا تھا ۔کراچی بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر نعیم قریشی نے کہا کہ او آئی سی نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ جمعیت علما پاکستان کے ناظم اعلیٰ کراچی ڈویژن محمد مستقیم نورانی نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ غیرت مند حکمران ہوں گے تب ہی کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا۔ فلسطین فائونڈیشن کے صابر ابو مریم نے کہا کہ جماعت اسلامی کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے ہمیشہ کی طرح کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام نظر نہیں آتے۔ جمعیت علما اسلام کے رہنما مولانا محمد غیاث نے کہا کہ کشمیر میں بھارت کی پوری ریاست ظلم ڈھارہی ہے۔ پاکستانی حکمران کشمیر کے مسئلے پر خاموش ہیں۔ اللہ اکبر تحریک کے امجد اسلام نے کہا کہ کشمیری عوام کا ظلم صرف کلمہ گو ہونا ہے، ہمارا ایمان ہے کہ مسلمانوں پر ظلم کرنے والوں کے خلاف متحدہو کر ہی غلامی سے آزادی حاصل کی جا سکتی ہے ۔جمعیت علما اسلام کے امین اللہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکے عوام کے ساتھ بھارت کا ظلم پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔جے آئی یو ف کے جنرل سیکرٹری قاری اللہ دادنے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ برسہا برس سے حل طلب مسئلہ ہے بدقسمتی سے جتنی بھی حکومتیں آئیں سب نے کشمیر کے مسئلے پر کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔ مجلس وحدت المسلمین کے علامہ صادق جعفری نے کہا کہ کشمیری عوام عرصہ دراز سے بھارت کے خلاف میدان عمل میں ہیں لیکن بد قسمتی سے ہمارے حکمران بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔جماعت اسلامی کراچی اقلیتی ونگ کے صدر یونس سوہن ایڈووکیٹ نے کہا کہ کشمیر دنیا کا وہ پہلا خطہ ہے جہاں عوام پر سب سے زیادہ ظلم ڈھایا جاتا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ کشمیر جنگ کے ذریعے سے ہی آزاد ہوگا۔ او آئی سی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیر کے عوام کے حق میں فیصلہ کریں۔پی ڈی پی کے صدر بشارت مرزا نے کہا کہ جدوجہد صرف سڑکوں پر نہیں بلکہ ہر محاذ پر کرنی چاہیے۔ پاکستان کو سازش کے تحت کمزور کیا جارہا ہے۔ کمزور پاکستان کشمیر کی کیسے مدد کرسکتا ہے۔مودی کے فیصلے پر ایک منٹ کی خاموشی سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا۔ سینئر صحافی مقصود یوسفی نے کہا کہ کشمیر کی جدوجہد آزادی اس بات کی علامت ہے کہ وہ کبھی بھی غلامی قبول نہیں کریں گے۔ خراج تحسین سے آگے بڑھ کر عملی اقدام کرنا ہوگا۔اقلیتی برادری کے منوج چوہان نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرچکا ہے۔ اگر حکومت مسئلہ کشمیر کے لیے کچھ نہیں کرسکتی توکشمیر کمیٹی جماعت اسلامی کے حوالے کردیں۔پاسٹر امجد فاروق نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور جارحیت کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان کشمیر کے حوالے سے ایسی پالیسی بنائے جس سے مسئلہ حل ہو جائے۔انیل سنگھ نے کہا کہ پوری سکھ قوم مظلوم کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کرتی ہے۔ حکمرانوں کو مسئلہ کشمیر پر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔کشمیر کانفرنس میں منظور کردہ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ یہ کشمیر کانفرنس کشمیر میں معصوم بچوں ، نوجوانوں ، خواتین اور بزرگوں پر بھارتی غاصب افواج کے ظلم و تشدد اور انسانی حقوق کی پامالی کی شدید مذمت کرتی ہے ، بھارتی حکومت نے 5اگست 2019ء کو بھارت کے آئین کی شق 370اور 35Aکو منسوخ کرتے ہوئے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کوختم کر دیا تھا بھارتی حکومت نے اس اقدام سے تمام بین الاقوامی معاہدات جو کشمیر سے متعلق ہیں انہیں از خود کالعدم کردیا ، چنانچہ اب کشمیریوں کی باقاعدہ مدد کرنا بین الاقوامی قانون کے مطابق بھی جائز ہے ،کشمیر کانفرنس یہ مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت پاکستان سفارتی ذرائع کو استعمال کرے بالخصو ص اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں اس مسئلے کو بھر پور اُجاگر کرے کیوں کہ کشمیریوں کی سیاسی جدو جہد کے ساتھ Indegenousعسکری جدو جہد ہی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق چارٹر کے مطابق ہے کیونکہ کشمیر پر بھارتی افواج نے غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے لہٰذا حکومت پاکستان مظلوم کشمیریوں کو بھارتی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے ہر ممکن عملی اقدامات بھی کرے ۔