ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پولیس نوکوٹ میں مبینہ گینگ ریپ کا واقعہ روک سکتی تھی، تحقیقاتی رپورٹ

میرپورخاص(نمائندہ جسارت)میرپور خاص کے علاقے نوکوٹ میں دو خواتین سے مبینہ زیادتی کے کیس میں پولیس کی روایتی ٹامک ٹوئیاں سامنے آگئیں۔نوکوٹ میں دوخواتین کیاغوا اورمبینہ اجتماعی زیادتی کیس کی تحقیقات جاری ہیں، اس واقعے پر قائم فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی
نے رپورٹ مکمل کرلی ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ مقامی پولیس، ڈی ایس پی اور چوکی انچارج واقعے کو روک سکتے تھے، واقعہ 6 فروری کی صبح رونما ہوا، پولیس چوکی کا انچارج تین پولیس اہل کاروں کے ساتھ پولیس موبائل میں قریب ہی موجود رہا، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی اور پولیس اس وقت تک حرکت میں نہیں آئی جب تک متاثرہ خاندان کی خواتین نے نوکوٹ میرپور خاص روڈ پر دھرنا نہیں دے دیا۔فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق مغوی خواتین 24 گھنٹوں بعد والدین کے حوالے کی گئیں، اعلیٰ پولیس حکام کو واقعے کی اطلاع کافی تاخیر سے دی گئی۔رپورٹ کے مطابق ملزمان مجرمانہ ریکارڈ اور علاقے میں اثرو رسوخ رکھتے ہیں اور معصوم لوگوں کیخلاف مجرمانہ کارروائیوں کے عادی ہیں، اس واقعے نے شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ چوکی انچارج گلزار ٹنگڑی کو تحقیقات مکمل ہونے تک پولیس حراست میں رکھا جائے، حکومت متاثرہ لڑکیوں کی قانونی اور نفسیاتی طورپر مدد کرے۔کمیٹی میں سماجی رہنما کاشف بجیر، نورالنساء ابڑو اور سمترا منجیانی شامل تھیں، رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے انسانی حقوق سریندر ولاسائی کو ارسال کردی گئی ہے۔خیال رہے کہ متاثرہ خواتین کے اہلخانہ نے الزام لگایا ہے کہ 6 فروری کو ان کی 2 خواتین کو اغوا کرکے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایاگیا، مقدمے میں نامزد تمام 20 افرادگرفتار اور ریمانڈ پر ہیں۔
 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں