دو سال گزر جانے کے بعد بھی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے والے افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سائبر اور آن لائن کاروبار کرنے والی کمپنی اے بی ٹیک سوشل میڈیا پر آن لائن فراڈ اور جعلی ہتھکنڈوں سے پیسہ ایٹھنے کے دھندے میں ملوث تھی۔
پاکستان میں سائبر اور آن لائن کاروبار کرنے والی کمپنی اے بی ٹیک سوشل میڈیا پر آن لائن فراڈ اور جعلی ہتھکنڈوں سے پیسہ ایٹھنے کے دھندے میں ملوث تھی دو سال قبل جاری ہونے والی حساس ادارے کی رپورٹ میں سب واضح تھا۔رپورٹ میں 5 بین الاقوامی سافت ویئر اسکیمرز کمپنیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔حساس ادارے نے یہ رپورٹ گیارہ ستمبر 2020 کو مرتب کی تھی، جبکہ کارروائی کیلئے 28 نومبر 2020 کو ایف آئی اے کو ٹاسک سونپا گیا تھا۔دو سال سے جاری تحقیقات میں تاحال کوئی پیشرفت نہ ہوسکی،۔
ایف آئی اے نے اے بی ٹیک کے خلاف مقدمے کا اندراج کیا اور الیکٹرانک کرائم ایکٹ، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ شامل کئے۔ مقدمے میں سی ای او برہان مرزا، چیف آپریشن آفیسرز منیب علی خان، غیاث غزالی، اور عمیس روحیل، تین نائب صدور (سیلز) کومیل رضا، علیحان پرویز اور نعمان جاوید کو حراست میں لیا گیا۔ ملزمان نے تفتیشی نظام میں سقم ڈال کر ضمانتیں حاصل کرلیں۔ امریکی حکومت نے باضابطہ طور پر ملزم اے بی ٹیک اور اس کی دو کمپنیوں یعنی 360 ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ریٹرو کیوب اور ان کے عہدیداروں کو سرکاری طور پر شو کاز آرڈر جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق مبینہ کمپنیاں اور ان کے اہلکار یو ایس پی ٹی او کے سامنے غیر مجاز اور نامناسب سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
ملزمان ازنیم بلوانی سی ای او، ذیشان حیدر، عاطف احمد، ثاقب زبیر سلمان، امیر علی، محمد عدنان محمد کمال علی حسن خان، الیسٹر جان گل سید رضوان علی شاہ، محمد ذیشان، زوہیب احمد نے سندھ ہائی کورٹ سے گرفتاری سے قبل ضمانت حاصل کر لی۔ایف آئی اے کی طرف سے نہ تو کوئی حتمی چالان پیش کیا گیا اور نہ ہی عدالت اس کیس کو قانون کے ساتھ ساتھ فوجداری انصاف کی انتظامیہ کے مطابق آگے بڑھانے کی زحمت کر رہی ہے۔