ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کیا دنیا پر ایٹمی جنگ خطرات منڈلا رہے ہیں؟

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے نیوکلئیر فورس کو ہائی الرٹ کردیا۔ روسی صدر ولادیمیرپیوٹن کا کہنا ہے کہ نیوکلیئر فورس کو الرٹ کرنے کی وجہ نیٹو کے روس کے خلاف جارحانہ بیانات ہیں۔ دوسری طرف اقوم متحدہ میں امریکی سفیر کا روسی صدر کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہنا ہے کہ روس کا ایٹمی فورس کو الرٹ کرنے کا فیصلہ ناقابل قبول ہے۔ اس سے قبل یوکرینی وزارت دفاع نے 4300 روسی فوجی مارنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوکرین کے خلاف جنگ میں روسی فوج کو نقصانات پہنچائے ہیں۔ یوکرینی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ اب تک تقریباً 4300 روسی اہلکار ہلاک کیے جاچکے ہیں۔
حالیہ دنوں میں پوتن کے بیانات کو ذرا غور سے سُنیں۔ گذشتہ جمعرات کو جب انھوں نے ٹی وی پر ایک خصوصی فوجی آپریشن کے آغاز کا اعلان کیا جو دراصل یوکرین پر باقاعدہ حملہ تھا، تو انھوں نے ایک تنبیہ بھی جاری کی: ’اگر کوئی بھی اس معاملے میں باہر سے مداخلت کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے تو وہ جان لے کہ اگر ایسا کیا گیا تو ایسے نتائج بھگتنا ہوں گے جن کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ نوبیل انعام یافتہ دمیتری موراتوو نووایا گزیٹا اخبار کے مدیر اعلٰی (چیف ایڈیٹر) ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ’پوتن کے یہ الفاظ جوہری جنگ کی براہ راست دھمکی ہیں۔اس خطاب میں پوتن صرف کریملن کے نہیں بلکہ دنیا کے مالک کے طور پر دکھائی دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ جیسے کوئی اپنی نئی گاڑی کی چابی انگلیوں پر گھما کر اس کی نمائش کرتا ہے، ویسے ہی پوتن نے جوہری بٹن پر اپنا ہاتھ پھیرا۔ پوتن کئی بار کہہ چکے ہیں کہ اگر روس ہی باقی نہیں رہے گا تو پھر باقی دنیا کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔ لیکن یہ دھمکی ہے کہ اگر روس سے اس کی خواہش کے مطابق برتاؤ نہیں کیا گیا تو پھر سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔
پوتن یوکرین کے خلاف جنگ کا آغاز کر چکے ہیں لیکن روس کی توقع کے برخلاف ایک جانب یوکرین کی افواج شدید مزاحمت کر رہی ہیں تو دوسری جانب مغربی ممالک ماسکو کے خلاف معاشی اور مالیاتی پابندیاں عائد کرنے پر متحد ہو رہی ہیں۔ پوتن کا وضع کردہ نظام خطرے میں پڑ چکا ہے۔پاول فیلگین ہاوئر ماسکو میں ایک دفاعی تجزیہ کار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس وقت پوتن مشکل میں پڑ چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’مغرب کی جانب سے روس کے مرکزی بینک کے اثاثے منجمند کرنے کے بعد روس کا مالیاتی نظام مفلوج ہو گا تو پھر پوتن کے پاس زیادہ راستے نہیں بچیں گے۔ پھر نظام چل ہی نہیں پائے گا۔ پوتن کے پاس ایک راستہ یہ ہے کہ وہ یورپ کی گیس سپلائی منقطع کر دیں اور امید کریں کہ اس سے یورپی ممالک پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ایک اور راستہ یہ بھی ہے کہ وہ برطانیہ اور ڈنمارک کے درمیان شمالی سمندر میں کسی مقام پر ایک نیوکلیئر بم گرا دیا جائے۔ اگر ولادیمیر پوتن نے واقعی جوہری آپشن کا انتخاب کر لیا تو کیا ان کے قریبی لوگوں میں سے کوئی ان کو روکنے کی کوشش کرے گا؟
 تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر صدر پوتن اور روسی قیادت کو اچھی طرح اس بات کا علم ہے کہ ایٹمی جنگ شروع نہیں کی جاسکتی کیوں کہ اس میں کوئی جیت نہیں سکتا بلکہ ایسا کوئی قدم دنیا کو سگین تباہی کی طرف لے جانے والا ثابت ہوگا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ انہیں مسلمہ ایٹمی طاقت ہونے اور دنیا میں جوہری ہتھیاروں کا سب سے بڑا ذخیرہ رکھنے کے باوجود بالواسطہ طور سے اپنے یورپی و امریکی مخالفین کو یہ ’پیغام‘ دینا پڑا ہے کہ روس جوہری طاقت ہے اور وہ بوقت ضرورت انہیں استعمال کرنے کا اقدام کرسکتا ہے۔ اس کی سادہ سی وضاحت یہ کی جاسکتی ہے کہ صدر پوتن کا اصل مقصد خوف کی فضا کو بڑھا کر یورپی اتحاد میں رخنہ ڈالنا ہے۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ اس قسم کی اطلاعات یورپی رائے عامہ پر اثر انداز ہوں گی جہاں پہلے ہی اینٹی وار لابی بہت مضبوط ہے جو کسی ایٹمی جنگ کے اندیشے کی وجہ سے متحرک ہوسکتی ہے اور یورپ و امریکہ کو روس کے خلاف سخت اقدامات سے باز رکھنے میں روس کی معاون ہوسکتی ہے۔
اس اعلان کا دوسرا مقصد یہ ہوسکتا ہے کہ ایسا اعلان کرکے روس، امریکہ اور یورپ کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اب اس نے یوکرائن میں اپنے اہداف و مقاصد حاصل کرنے کا تہیہ کیا ہؤا ہے ۔ اس لئے سب کے لئے یہی بہتر ہوگا کہ اس حقیقت کو تسلیم کرلیا جائے اور روس کو کسی دشواری کے بغیر اپنے اہداف حاصل کرکے کیف میں ایسی حکومت قائم کرنے کا موقع د یاجائے جو مستقبل قریب میں ماسکو کو چیلنج کرنے اور اس کی اعلیٰ قوت کو نظر انداز کا حوصلہ نہ کرے۔ روس کے خیال میں کیف میں بیلا روس قسم کی ماسکو کی مطیع و فرماں بردار حکومت اس کے وسیع تر مفاد اور دنیا کے امن کے لئے راحت کا پیغام ہوگی۔
یوکرائن جنگ کا جائزہ لیا جائے تو اندزوں کی غلطیوں ہی کی وجہ سے حالات موجودہ خطرناک نہج تک پہنچے ہیں۔ پہلے تو امریکہ اور نیٹو نے 1991 اور اس کے بعدنیٹو کو مشرقی یورپ کی طرف توسیع نہ دینے کے وعدے کی خلاف ورزی کرکے غلط اندازے قائم کئے تھے۔ یقین دہانیوں کے باوجود مشرقی یورپ کا ایک کے بعد دوسرا ملک نیٹو میں شامل ہوتا رہا کیوں کہ امریکہ و نیٹو یہ سمجھ رہے تھے کہ سویت یونین ٹوٹنے کے بعد اس کی طاقت کا خاتمہ ہوچکا ہے اور اب اسے کسی بھی حد تک دبایا جاسکتا ہے۔ اندازے کی دوسری غلطی یوکرائن کی سرحد پر روسی فوجوں کے اجتماع کے بعد کی گئی۔ امریکہ اور نیٹو نے ماضی قریب میں کی گئی غلطیوں کا جائزہ لے کر روس کی جائز سیکورٹی ضرورتوں کو تسلیم کرنے اور یوکرائن کی نیٹو رکنیت کی کوشش کو سنگین مسئلہ سمجھنے سے انکار کیا۔ صدر جو بائیڈن تسلسل سے یہی کہتے رہے کہ نیٹو میں یوکرائن کی شمولیت مسئلہ نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ روس کا دھمکی آمیز رویہ ہے۔ اسے یوکرائن کی سرحد سے اپنی فوجیں واپس بلانی چاہئیں۔ نتیجتاً روس کو یوکرائن پر حملہ کا انتہائی اقدام کرنا پڑا۔
دیکھا جائے تو یوکرائن کا موجودہ بحران امریکہ اور روس کی جانب سے مختلف پہلوؤں سے اندازوں کی غلطیوں کی وجہ سے پیدا ہؤا ہے۔ اندازوں کی ان غلطیوں ہی سے یوکرائن کے 44 ملین لوگ اس وقت خطرناک جنگ کا سامنا کررہے ہیں۔ اب صدر پوتن نے جوہری تیاری کا اعلان کرکے ایک نیا جؤا کھیلا ہے اور اندازے کی ایک نئی غلطی کی ہے۔ اور اس غلطی کا خمیازہ انتہائی سنگین ہوگا۔

منگل، یکم مارچ 2022

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

The post کیا دنیا پر ایٹمی جنگ خطرات منڈلا رہے ہیں؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں