کیف: یوکرین کی بندرگاہ اولوِیا پر بنگلہ دیش کے مال بردارجہاز کومیزائل یا بم سے نشانہ بنایا گیا جس سے عملے کا ایک رکن ہلاک ہو گیا ہے۔
سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق بنگلہ دیش شپنگ کارپوریشن کے ایگزیکٹوڈائریکٹر پیجوش دتہ نے جہاز پر حملے اور ایک انجینئر کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ حملہ کس طرف سے کیا گیا ہے اور اس میں بم یا میزائل کا استعمال کیا گیا ہے ۔
انہوں نے مزید تفصیل فراہم کیے بغیر بتایا کہ عملہ کے دیگر 28 ارکان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کے ایک عہدہ دار نے بتایا کہ سرکاری ملکیتی بنگرسمردھی 24 فروری کو یوکرین پر روس کے حملے کے آغازکے بعد اولویا کی بندرگاہ پر پھنس گیا تھا ۔ یوکرین کے ساحل کے قریب ایک کارگوجہاز دھماکے کے بعد ڈوب گیا۔ جہازکے عملے کے6ارکان کوبچا لیا گیا۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یوکرین کے ساحل کے قریب ایستونیا کا ایک کارگوجہاز دھماکے کے بعد ڈوب گیا۔ یوکرین کی ریسکیوسروس نے عملے کے 6ارکان کوبچا لیا۔بحری جہاز چند روز قبل اودیسا کے قریب چورنومورسک کی جنوبی بندرگاہ سے روانہ ہونے کے بعد یوکرین کے ساحل پر لنگر اندازہوا تھا۔
جہازمیں ہونے والے دھماکے کی وجوہات کا علم نہیں ہوسکا۔ایستونیا کی سرحد روس سے ملتی ہے اوروہ نیٹو کے رکن ممالک میں شامل ہے۔
