عالمی طور پر تسلیم شدو اور اقوام متحدہ کی پشت پناہی سے بننےوالی لیبیا کی موجودہ حکومت کا مینڈیٹ اگر چہ جون میں ختم ہو رہا ہے تاہم یو-این کے روڈ میپ کے مطابق اب بھی یہ حکومت انتخابات کروانے کی اہلیت رکھتی ہے۔ بہر حال شمال میں قائم ‘توبرک پارلیمنٹ’ نے وزیراعظم عبدالحمید دبیباہ کی قانونی حکومت ختم کرنے کی کوشش میں اس کے متبادل ایک حریف اور متوازی حکومت قائم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ابھی حال ہی میں حفتار کے حامی ایوان نمائندگان نے یو-این ، اور لیبیا کی غالب اکثریت کی حمایت یافتہ حکومت کو چیلنج کرنے کے لیے ‘فتحی بشاغا ‘ کی سربراہی میں قائم مخالف حکومت کو اعتماد کا ووٹ دیا ہے۔
منگل کےروز اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے لیبیا کے صدر ‘عبدالحمید دبی باہ نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہےایوان نمائندگان کی جانب سے ایک نئی حکومت کو اعتماد کا ووٹ دراصل اسی ایوان نمائندگان کے اختیا ر میں توسیع کی سازش ہے۔”یو-ٰ این نے لیبیا کےباشندوں سے کہا ہےکہ وہ پرامن رہیں اور تشدد، نفرت پر مبنی بیان بازی اور ڈس انفارمیشن کو ہوا دینے سے گریز کریں۔
مسلح ملیشیا کا کردار
لیبیا کے صحافی ‘عبدالقادر اسد ‘ نے TRT WORLD کو بتایا کہ اس بات کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ بشاغا تریپولی کی حکومت کو اندر سے کیا کرسکتا ہے اور کیا نہیں کر سکتا ، کیونکہ اس کے لیے تریپولی ہی وہ جگہ ہے جسے وہ اپنی بنیاد بنا نا چاہتا ہے اور بن غازی اور سرتی جیسا کوئی بھی دوسرا شہر ایسے ہے جیسے اس کی حکومت کا کوئی وجود ہی نہیں۔”
انٹرنیشنل انٹرسٹ جو ایک گلوبل رسک اینڈ انٹیلی جنس کمپنی ‘ ہے کے منیجنگ ڈائریکٹر سمی حامدی کا کہنا ہے کہ ” حمید دبیباہ کی حکومت کو ہٹانے کے لیے فتحی بشاغا کی اہلیت کا مکمل دارومدار اس بات پر ہے کہ تریپولی میں موجود مختلف ملیشیا گروپوں میں سےکتنوں کی حمایت حاصل کر سکتا ہے۔ اسد کے مطابق تما م نہیں مگر کچھ بڑے مسلح گروہوں نے دبیباہ کی حکومت کے حق میں بیان جاری کیے ہیں۔حامدی کے خیال کے مطابق”یہ ب کچھ بدل بھی سکتاہے کیونکہ دوسری جانب ملیشیا صر ف اپنے مفادات کی وفادار ہوتی ہے نہ کہ ریاستی اداروں کی۔”
"یہ ایک ایسا منظر ہے جو لیبیا کو واپس اس کی پہلے والی حالت میں لے جاتا ہے، جمہوری انتخابی عمل کی امیدوں کو ختم کردیتا ہےاور لیبیا کے لوگوں کو ووٹ کے زریعے اپنی قیادت منتخب کرنے کے موقع سے محروم کردیتاہے۔ ایسا ہوتا ہے یا نہیں ، اس تمام معاملے کا انحصار اس بات پر ہے کہ اقوام متحدہ لیبیا میں اپنے مشن (UNSMIL) کو کس حد تک سپورٹ کرتاہے اور یہ کہ نئی حکومت پرکیسا بین الاقوامی ا ردعمل سامنے آتا ہے۔”
حامدی اس بات پر بھی یقین رکھتا ہے بشاغا کی متوازی حکومت لیبیا کو دو راہے پر ڈال دے گی، او ر ایوان نمائندگان کے متوازی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہےکہ وہ روس، فرانس اور دوسرے روایتی اتحادیوں پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ بشاغا کو تسلیم کر یں گے اور اس کی مدد کریں گے۔یہ عمل قیقی تقسیم کو مزید پختہ کر ے گا اور تقسیم کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کے خطرے کو بڑھا دے گا۔” حامدی نے ٹی – آر – ٹی ورلڈ کو بتایا۔حامدی نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ بشاغا اقتدار تک اپنا راستہ بنا سکتا ہے اگر وہ ملیشیا کی حمایت جیت کر تریپولی پر اپنی حقیقت بزور طاقت ثابت کر دیتا ہے۔حامدی کے مطابق یو – این ، روس ، فرانس ، اور دوسرے اتحادی اس صورتحال میں مدد نہیں کر رہے۔
” حقیقت یہ ہے کہ پبلک کے سامنے یہ یقین دہانیاں کرانے کے با وجود کہ وہ دبی باہ کو سپورٹ کر رہے ہیں یہ بین الاقوامی کردار ( بشمول یو-این) بشا غا کو بھی اپنے ساتھ جوڑ کر رکھتےہوئے وہ اس بھی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں ۔”
پیر، 7 مارچ 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post لیبیا : ترقی کے حاصلات متوازی حکومت کی وجہ سے خطرے میں ہیں: شفقنا بین الاقوامی appeared first on شفقنا اردو نیوز.