ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکا نے تیل پر پابندی لگائی تو یورپ کی گیس بند کردینگے ،روس

ْ ماسکو،کیف(مانیٹرنگ ڈیسک) روس نے امریکا کی جانب سے تیل درآمدات پر پابندی پر خبردار کیا ہے کہ اس صورت میں وہ بھی یورپی ممالک کو گیس کی فراہمی فوری طور پر روک دے گا۔روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے خبردار کیا ہے کہ روسی تیل کو مسترد کرنا عالمی منڈی کے لیے تباہ کن ثابت ہو گااور اس کی وجہ سے قیمتیں دوگنی سے بھی زائد یعنی تقریباً 300 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائیں گی۔منگل کو روس کے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک خطاب کے دوران الیگزینڈر نوواک نے کہا کہ فوری طور پر یورپی مارکیٹ میں روسی تیل کا متبادل تلاش کرنا ایک ناممکن سی بات ہو گی۔ اس میں برسوں لگ سکتے ہیں اور تب بھی یہ یورپی صارفین کے لیے بہت زیادہ مہنگا ہو گا۔ بالآخر، اس سے سب سے زیادہ نقصان انہی کو پہنچے گا۔جرمنی اور روس کے درمیان زیر تعمیر ایک نئی گیس پائپ لائن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے روسی رہنما نے کہا کہ تیل پر پابندیوں کے خلاف جوابی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔روسی نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں اس بات کا پورا حق حاصل ہے کہ ہم بھی انہیں کی طرح جوابی فیصلہ کریں اوریورپ کو جو گیس فراہم کی جا رہی ہے اس پر پابندی عائد کر دیں۔دریں اثناء روس کی جانب سے جنگ کا شکار ہونے والے ملک یوکرین کے لیے عالمی بینک نے 489ملین ڈالرز کا سپورٹ پیکیج منظور کر لیا۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یوکرین کے لیے سپورٹ پیکیج عالمی بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے منظور کیا۔غیر ملکی خبر رساںایجنسی نے یہ بھی بتایا ہے کہ یوکرین پیکیج میں 350ملین ڈالرز کا ضمنی قرض اور 139ملین ڈالرز گارنٹیز کی مد میں شامل ہیں۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ روس میں فوج نہیں بھیج رہی اور نہ ہی یوکرین پر نو فلائی زون لاگو کر رہی ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ایٹمی طاقت کے ساتھ براہ راست تصادم ہو سکتا ہے۔ مختلف امریکی ذرائع ابلاغ کو انٹرویو دیتے ہوئے انٹونی بلنکن نے وضاحت کی کہ نو فلائی زون کے لیے امریکا کو اسے سختی سے نافذ کرنے کی ضرورت ہوگی جس میں یوکرین کے اوپر سے پرواز کرنے والے روسی طیاروں کو مار گرانا شامل ہو سکتا ہے۔این بی سی میٹ دی پریس پروگرام کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن ایک چیز کے بارے میں بہت واضح رہے ہیں، وہ یہ کہ ہم امریکا کو روس کے ساتھ براہ راست تنازع میں ڈالنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور نہ ہی ہم نے ایسا کیا کہ یوکرین میں امریکی فوجی یا طیارے روسی طیاروں کے خلاف لڑ رہے ہوں۔دوسری جانب یوکرین کیخلاف فوجی کارروائی کے بعد روس سب سے زیادہ پابندیوں کا سامنا کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا۔ عالمی پابندیوں کا ڈیٹا بیس جمع کرنے والی کیسٹلم ڈاٹ اے آئی کے مطابق، یوکرین کیخلاف فوجی کارروائی کے صرف 10 دن کے اندرروس عالمی پابندیوں کے حوالے سے دنیا کا پہلا ملک بن گیا۔عالمی پابندیوں کا ریکارڈ رکھنے والی تنظیم کا کہنا ہے کہ یوکرین کے خلاف فوجی آپریشن کے بعدسے روس پر2ہزار778 پابندیاں عائد کی گئیں جبکہ روس پرعائد مجموعی پابندیوں کی تعداد 5ہزار530ہوگئی ہے۔سخت عالمی پابندیوں کا سامنے کرنے والے ممالک میں ایران دوسرے اورشمالی کوریا تیسرے نمبرپرہے علاوہ ازیں روس نے یوکرین کی رہائشی عمارت پر دنیا کا سب سے طاقتور 500 کلوگرام وزنی بم گرایا جس کے نتیجے میں 2 بچوں سمیت 18 شہری ہلاک ہوگئے۔یوکرین کی وزارت خارجہ نے اپنے ٹوئٹراکاؤنٹ پر 500 کلوگرام کے ایک اوربم کی تصویرشیئرکرتے ہوئے کہا یہ بم بھی رہائشی عمارت پرگرایا گیا تھا جوپھٹ نہ سکا ۔روسی طیاروں نے یوکرین میں رہائشی عمارتوں پر500 کلووزنی جوبم گرائے وہ ’فادر ا?ف ا?ل بم ‘ (ایف اے بی 500 )کہلاتے ہیں۔قبل ازیں یوکرین کی انٹیلی جنس نے ہفتے میں دوسری بار جنگ کے دوران پکڑے گئے روسی فوجی اہلکاروں کو میڈیا کے سامنے پیش کردیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرینی فوج نے پریس کانفرنس بلائی جس میں جنگ کے دوران گرفتار کیے گئے 10 روسی فوجیوں کو پیش کیا گیا۔دریں اثناء یوکرین نے جنگ کے دوران روسی میجرجنرل کوہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔یوکرین کی وزارت دفاع کے مطابق روسی میجرجنرل وتالی گریسموف خارکیف کے قریب یوکرینی فوجیوں سے جھڑپ کے دوران ہلاک ہوئے۔جھڑپ میں متعدد دیگرروسی فوجی بھی ہلاک اورزخمی ہوئے۔یوکرینی حکام کا کہنا تھا کہ روسی میجر جنرل چیچنیا اورشام میں بھی روسی فوجی آپریشن میں شریک تھے۔روس نے میجر جنرل کی ہلاکت کی اطلاعات پرکوئی ردعمل نہیں دیا۔دوسری جانب یوکرین پرشدید روسی شیلنگ کے باعث شہریوں کا محفوظ مقامات کی جانب انخلا رک گیا۔یوکرین میں ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہیں۔ ماریپول شہرمیں خوراک اورپانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق روس اوریوکرین کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور میں کوئی خاص پیشرفت نہ ہوسکی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں