ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

لمپی اسکن صرف گائے میں پایا جاتا ہے،وائرس انسانوں اور بھینسوں میں منتقل نہیں ہوتا

کراچی(رپورٹ:منیر عقیل انصاری)سندھ میں گائے میں پائے جانے والا لمپی اسکن نامی وائرس انسانوں میں منتقل ہونے کے امکانات نہیں ہیں، یہ وائرس گائے میں ہوتا ہے، بھینسوں میں منتقل نہیں ہوتا ہے،وائرس کے باعث گائے دودھ دینا بند کردیتی اور نڈھال ہوکر مر جاتی ہے، اس بیماری میں مبتلا گائے ذبح کرنے کے قابل بھی نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی دوکاندار اس کو فروخت کرسکتا ہے۔ سندھ کے کسی پولٹری فارمز میں ’’فزولا‘‘ نامی وائرس مرغیوں میں نہیں پھیل رہا ہے،اس حوالے سے ڈیری فارمر محمد سلیم قریشی نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لمپی اسکن نامی وائرس صرف گائے میں پھیل سکتا ہے، بھینسوں میں یہ وائرس منتقل نہیں ہوتا ہے، اس وائرس سے متاثرہ گائے کے جسم میں پھوڑے نکل آتے ہیں، اس میں پڑنے والا پس گوشت میں سرایت کرجاتا ہے جو گوشت اور جلد پر زخم بنادیتا ہے،جبکہ گائے دودھ دینا بند کردیتی ہے اور نڈھال ہوکر مر جاتی ہیں، اس بیماری میں مبتلا گائے ذبح کرنے کے قابل بھی نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی دوکاندار اس کو فروخت کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لمپی اسکن نامی وائرس پہلی بار 1929 میں زیمبیا میں سامنے آیا۔ اس کے چند سال بعد زمبابوے اور افریقہ میں بھی پھیلا ۔افریقہ میںیہ بیماری دوسال تک پھیلی رہی جس سے 80 لاکھ جانور متاثر ہوئے اور بھاری معاشی نقصان ہواتھا۔اس کے بعد بھی دیگر کئی ممالک میں اس کے کیسز سامنے آئے اور 2019 میں یورپ تک بھی پھیلی، جبکہ 2012 میں افغانستان اور انڈیا میں بھی جانور متاثر ہوئے۔انہوں نے کہا کہ جن ممالک میں یہ وائرس پایا گیا ہے ان ممالک میں اس سے انسانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے اور نہ ہی اس بیماری کے جانوروں سے انسانوں میں منتقلی کے کوئی امکانات نہیں ہے۔،سوشل میڈیا اور مین میڈیا کی ویب سائٹ پر غلط طریقے سے خبروں کی تشہیر کی جارہی ہے۔ سندھ میں پولٹری فارمز میں ’’فزولا‘‘ نامی وائرس مرغیوں میں پھیلنے کے حوالے سے پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے سابق وائس چیئرمین محمد جاوید اسلم نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جسطرح میڈیا کے ذریعے مرغیوں میں ’’فزولا‘‘ نامی وائرس کی تشہیر کی جارہی ہے اس خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے اس وائرس کانا م ہی میں نے پہلی مرتبہ سنا ہے،پورے پاکستان میںپالنے والی مرغیاں صحت مند ہیںاور انسانی صحت کو بھی کوئی خطرہ نہیں ہے،ڈیری اینڈ کیٹل ایسوسی ایشن کے صدر شاکر عمر گجر نے موقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے لمپی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ لمپی سے متاثرہ جانور کے تھوک اور مکھیوں کے ذریعے بیماری دوسرے جانوروں تک پھیلتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیماری سے متاثرہ علاقے سے 50 کلومیٹر دور صحت مند جانوروں کے لیے لمپی ویکس نامی ویکسینیشن کا انتظام کیا جائے تاکہ دوسرے علاقوں تک بیماری نہ جا سکے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ نئے خریدے گئے جانوروں کو 15 دن قرنطینہ کے لیے الگ باندھنا چاہیے تا کہ واضح ہو جائے کہ جانور وائرس کا شکار نہیں ہے۔ویٹرنری آفیسر لائیو سٹاک کراچی ڈاکٹر آغا اسد کا کہنا ہے کہ ’لمپی نامی جلد کی بیماری کراچی کے جانوروں میں رپورٹ ہو رہی ہے اور بڑے پیمانے پر پھیل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں جانوروں میں ویکسینیشن دیر سے ہونے کی وجہ سے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ اس بیماری سے جانور کے گوشت کے ٹشوز متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان میں پہلی بار یہ بیماری سامنے آئی ہے اس لیے زیادہ جانور متاثر ہوئے ہیں۔ گائے اور چھوٹے بچے اس بیماری سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، اس لیے متاثرہ جانور کو دوسرے جانوروں سے الگ رکھنا چاہیے۔ متاثرہ جانوروں کو صحت یاب ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے۔واضح رہے کہ سوشل میڈیا اور مختلف میڈیا اداروں کی ویب سائٹ پر اس طرح کی خبر گردش کررہی ہے کہ سندھ کے پولٹری فارمز میں’’فزولا‘‘ نامی وائرس پھیلنا شروع ہوگیا ہے جو مرغیوں کے ساتھ انسانی صحت کے لیے بھی خطرناک ہے ۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں