حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد ملکی سیاسی ہلچل عروج پر آچکی ہے اور روز بدلتی صورتحال کے بعد سیاسی کھیل کا سیمی فائنل شروع ہوچکا، آج بھی حکومت، اتحادیوں اور اپوزیشن کے الگ الگ اجلاس طلب کر لئے گئے جن میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔ تفصیلات کے مطابق حکومت اور اس کے اتحادیوں نے بھی میٹنگز، رابطوں اور اجلاسوں کا سلسلہ تیز کردیا، تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا۔ذرائع کے مطابق حکومتی شخصیات ق لیگ، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی سے دوبارہ رابطے کریں گی، پرویز الٰہی کی وزیر اعظم سے ملاقات کروانے کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ آج حکومتی شخصیات دوبارہ مسلم لیگ ق سے رابطہ کریں گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پر حکمت عملی طے کی جائے گی۔دوسری جانب جہانگیر ترین گروپ نے آج اہم مشاورتی اجلاس طلب کرلیا ہے، اجلاس جہانگیرترین کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن میں 3 بجے ہوگا۔
اس تمام صورتحال میں خاص پیش رفت یہ ہے کہحکومت نے تحریک عدم اعتماد واپس لینے کی صورت میں اپوزیشن کو ڈیل کی پیشکش کردی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد واپس لینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد واپس لے، دیکھتے ہیں انہیں بدلے میں کیا دیا جا سکتا ہے۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمارا ڈی چوک پر جلسہ ہوگا جس میں ان شاء اللہ 10 لاکھ لوگ ہوں گے، جلسے سے ایک چھوٹا سا ریفرنڈم بھی ہو جائے گا، اس جلسے سے گزر کر اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کے لیے لوگوں کو جانا ہوگا اور واپسی بھی اسی مجمع سے گزر کر ہو گی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مقابلہ ن لیگ اور پی ٹی آئی میں ہے، پی پی کا پنجاب میں کوئی چانس نہیں ہے، نواز شریف نے مشکل وقت میں کیے وعدے کبھی اپنے اچھے وقت میں پورے نہیں کیے، ان کی 1988 کی سیاست دیکھ لیں، چاہے ق لیگ سے ہمایوں اختر گروپ جو ن لیگ میں ضم ہوا اسے دیکھ لیں، ٹکٹوں کی باری آئی تو یہ مکر گئے، ہمایوں اختر آج بھی نواز شریف کے دستخط والا معاہدہ اٹھائے پھرتے ہیں۔وفاقی وزیر نے اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد واپس لینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے بعد سے حکومت اور اپوزیشن میں تلخیاں پیدا ہو گئی ہیں، زبان میں بھی تلخیاں پیدا ہو چکی ہیں، ایسا نہ ہو کہ ووٹنگ کے دن تلخیاں اتنی بڑھ چکی ہوں جس کا نقصان پاکستان کو ہو۔
عمران خان اور ان کے حواری یہ دعوی کر رہے تھے کہ منحرف اراکین کوووٹ نہیں ڈالنے دیں گے اور ان کو پہلے مستعفی ہونا ہوگا تاہموزیراعظم کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اسمبلی سیکرٹریٹ اور شعبہ قانون سے قانونی پہلوؤں پر مشاورت کی۔ذرائع کے مطابق اسپیکراسد قیصر نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے شعبہ قانون سازی سے مشاورت کی جس میں اسپیکرنے رائے طلب کی کہ کیا منحرف اراکین کو ووٹ ڈالنے سے روکا جاسکتا ہے؟ اس پر اسپیکرکو جواب ملاکہ کسی بھی رکن کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روک سکتے،یہ قانون واضح ہے۔ ذرائع کے مطابق شعبہ قانون سازی نے اسپیکر کو بتایا کہ آئین کا آرٹیکل 63 ون اے بالکل واضح ہے، پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر رکن کے خلاف بعد میں کارروائی ہوسکےگی۔ ذرائع کے مطابق اسپیکرنے پوچھا کہ پارٹی قیادت کی جانب سے مشکوک اراکین کے نام آئیں توکیا ایکشن ہوسکتا ہے؟ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ پارٹی چیئرمین سے باضابطہ ڈکلیئریشن کے بعد اسپیکرکا کردارشروع ہوتا ہے۔اسپیکر نے سوال کیا کہ کیا منحرف اراکین سے متعلق ووٹنگ سے پہلے رولنگ دی جاسکتی ہے؟ اس پر اسمبلی سیکرٹریٹ نے مؤقف اپنایا کہ رولنگ دینا اسپیکرکا اختیارہے تاہم اس پر آئین وقانون واضح ہے۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف کے پاس 155 ووٹ ہیں، جب کہ اس کے اتحادیوں کی نشستیں 24 ہیں۔ اس طرح حکومت کو کل ملا کر 179 اراکین کا اعتماد حاصل ہے۔ مشترکہ حزب اختلاف کے پاس 162 ووٹ ہیں۔ اگر کم از کم 10 اراکین حکومت سے حزب اختلاف میں چلے جاتے ہیں تو اسے 172 کا جادوئی نمبر حاصل ہو جائے گا اور اس کے ساتھ ہی عمران خان گھر چلے جائیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کے کتنے اور کہاں تک امکانات موجود ہیں؟ حزب اختلاف کا دعویٰ ہے کہ تحریک کے کم از کم 20 اراکین اسمبلی پہلے ہی رائے شماری کے دن فلور کراس کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ کچھ لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ وسطی یا شمالی پنجاب میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ یا سندھ یا جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر جیتنے کے امکانات کی وجہ سے ”متاثر” ہوئے ہیں۔ کچھ کی مٹھی بھی گرم کی گئی ہوگی۔ اگر اس دعوے میں نصف سچائی بھی ہوئی تو معرکے والے دن میدان حزب اختلاف کے ہاتھ رہے گا۔حکومت کے اتحادیوں میں ق لیگ کے (5 ووٹ)، ایم کیو ایم (7 ووٹ)، بی اے پی (5 ووٹ)، جی ڈی اے (3 ووٹ)، آزاد (2 ووٹ)، شیخ رشید (1 ووٹ) اور جے ڈبلیو پی (1 ووٹ) شامل ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر حزب اختلاف نے تحریک انصاف کے اراکین کو توڑ کر اپنی گنتی پوری کرلی تو وہ خسارے میں رہیں گے۔ لہٰذا وہ سب اس حکومت کی شاخوں سے پرواز کرنے اور اگلی میں نشستیں حاصل کرنے کے لیے شرائط پر گفت و شنید کر رہے ہیں۔ ان حالات میں اگر سب کچھ منصوبہ بندی کے مطابق ہوا تو حزب اختلاف 200 سے زائد ووٹوں کی زبردست اکثریت سے عمران خان کا تختہ الٹ سکتی ہے۔
لیکن کھیل ختم نہیں ہوتا جب تک حتمی سیٹی نہیں بج جاتی۔ اگر عمران خان کو ہٹا بھی دیا جاتا ہے تو حزب اختلاف کو اگلے مرحلے کے لیے مل کر طریق کار طے کرنا ہوگا۔ اسلام آباد میں اگلی حکومت کون بنے گا؟ یہ کب تک چلے گی؟ انتخابات، احتساب اور بجٹ قوانین میں کن ”اصلاحات” کی ضرورت ہوگی؟ مختلف صوبائی اسمبلیوں کی قسمت کا کیا فیصلہ کیا جائے گا، ان کی سربراہی کون کرے گا اور یہ کب تحلیل ہوں گی؟ اسٹبلشمنٹ کے اتحادیوں، جیسا کہ ق لیگ، ایم کیو ایم، جی ڈبلیو ڈی، بی اے پی وغیرہ کی مستقبل کے بندوبست میں کیا جگہ ہوگی؟ اگر ایسے نوک دار سوالات کا جلد جواب نہ تلاش کیا گیا تو تمام کاوش اکارت جانے اندیشہ موجود ہے۔ پھر اسٹبلشمنٹ قدم آگے بڑھا کر ان معاملات کا ”حل“ نکالے گی اور اس میں ہر کسی کا نقصان ہوجائے گا۔
مران خان ووٹنگ کے دن اسلام آباد کے ڈی چوک پر قبضہ کرنے، پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے اور تحریک انصاف کے منحرفین کو اس میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے اپنی یوتھیا بریگیڈ کو بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے ردعمل میں مولانا فضل الرحمان نے اپنے ”رضاکاروں“ کو حکم دیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ لاجز میں جے یو آئی کے اراکین اسمبلی کو پولیس کے ہاتھوں ہراساں، اغوا یا گرفتار ہونے سے بچائیں۔ اگر پی پی پی کے ”جیالوں ” اور پی ایم ایل این کے حامیوں کو میدان میں اترنے کے لیے اکسایا جاتا ہے، تو پرتشدد جھڑپوں کی نوبت آجائے گی۔ سپیکر اسد قیصر اس انتظار میں ہیں کہ ایسی کوئی صورتحال پیدا ہو تاکہ وہ پارلیمنٹ کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر کے یوم حساب ٹال دیں۔
پیر، 14 مارچ 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post موجودہ سیاسی بحران کا نتیجہ کیا ہوگا؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.