کراچی(رپورٹ: منیر عقیل انصاری) کراچی میں گائے میں لمپی اسکن وائرس کی موجودگی اور سند ھ حکومت کی واضح پالیسی سامنے نہ آنے کے باعث شہر میں مہنگائی کا نیا طوفان آگیا ہے،مرغی ،مچھلی، پھل اور سبزیوںکی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ ہو گیا ہے ،تفصیلات کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں فی کلو مرغی کا گوشت540روپے جبکہ زندہ مرغی 380روپے فی کلو میں فروخت ہورہی ہے، سمندری مچھلی کی قیمت میں فی کلو 300 روپے تک اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ دریائی مچھلی 200 روپے اور فش فارمز کی مچھلی 100 روپے تک مہنگی فروخت کی جا رہی ہے۔ اسی طرح شہر قائد میں بہت کم پھل اور سبزیاں 100 روپے یا اس سے کم قیمت پر دستیاب ہیں،مانگ بڑھنے اور سرکاری نرخ مقرر نہ ہونے سے مچھلی فروشوں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔تازہ مچھلی کی قیمت میں اس قدر اضافہ کردیا گیا ہے کہ یہ غریب کی پہنچ سے دور ہوگئی ہے۔موسی کالونی میں موجود ایک مچھلی فروش نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کل مچھلی کی ڈیمانڈ میں 85 فیصد، جھینگے کی 10 فیصداور دیگر سی فوڈز کی ڈیمانڈ میں 5 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ کراچی میں فش ہاربر، ابراہیم حیدری اور ریڑھی گوٹھ کے علاوہ موسی کالونی ،یونس آباد، شمس پیر، چشمہ گوٹھ اور لٹھ بستی میں مچھلی منڈیاں لگتی ہیں اور وہاں سے مچھلی شہر کی مارکیٹوں میں آتی ہے۔ بعض دکانداروں نے مچھلی کی من مانی قیمتیں مقرر کررکھی ہیں جس کے باعث متوسط طبقے کو مچھلی کی خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے۔اسی طرح شہر کے مختلف علاقوں میں گراں فروشوں نے سبزیوںکی قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیا ہے، جس کی وجہ سے اب سبزی بھی غریب کی پہنچ سے دور ہوگئی ہے۔ مختلف علاقوں میںہری مرچ240، لہسن400، ادرک 320، لیموں 220 روپے کلو ہوگیا ہے، مٹر150، ہری پیاز 240، ٹنڈہ120، شملا مرچ 180 روپے کلو میں بکنے لگی ہے۔ لوکی 80، پھول گوبھی 100، بند گوبھی 100، بھنڈی 180 روپے کلو میں دستیاب ہے۔ کریلا 120، پالک 80، بینگن 80، شلجم 120، چقندر 120 روپے کلو بیچی جارہی ہے۔دوسری جانب کمشنر آفس کی قیمتوں کی فہرستوں کو نہ صرف دکاندار بلکہ بعض معروف ڈپارٹمنٹل اسٹورز کی جانب سے بھی مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ کراچی والوں کو مہنگائی کی ایک اور شدید لہر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے قیمتوں میں من مانا اضافہ کرکے اور مختلف گھریلو اشیاودیگر مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرکے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لیے اپنی غیر قانونی سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔