ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

تحریک عدم اعتماد تو ناکام ہوگی ، 2023 کا الیکشن بھی اپوزیشن کے ہاتھ سے گیا ، وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان اوورسیز پاکستانیز کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد توناکام ہی ہوگی بلکہ 2023ء کا الیکشن بھی اپوزیشن کے ہاتھ سے گیا۔منگل کو اوورسیز پاکستانیوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کا سمندر ہے، سارا وقت ہم پر بوجھ پڑا رہتا تھا اور ہم سارا وقت سوچتے تھے کہ کیا کریں، آج میں اپوزیشن جماعتوں کا دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے لوگوں کو مہنگائی بھلا دی، ان کی وجہ سے میری جماعت اکٹھی ہوگئی، اپوزیشن نے مجھ پر احسان کیا اب انہیں برا بھلا نہیں کہوں گا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف جنرل جیلانی کی چھتوں پر سریا لگاتے لگاتے وزیراعلیٰ بنا، فضل الرحمن 30سال سے دین بیچ رہا ہے، اس کا نام ڈیزل ہم نے نہیں بلکہ ن لیگ کے ایک رنگ باز نے رکھا اور وہ اس لیے کہ فضل الرحمن ڈیزل کے پرمٹ کے نام پر پیسے بناتا تھا۔عمران خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی، ن لیگ اور فضل الرحمن ایک دوسرے کو چور کہتے تھے اور اب یہ ’’تھری اسٹوجیز‘‘ میرے خلاف جمع ہوگئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ملک بچانا ہے، اگر انہیں ملک بچانا ہے تو اس سے بہتر ہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ ڈوب جائیں۔وزیراعظم کے بقول میں تنگ آ گیا تھا کہ یہ 3سال سے کہتے تھے کہ اب حکومت گئی، یہ نا اہل ہے، سلیکٹڈ ہے،اب یہ تینوں کپتان کی بندوق کے نشانے پر آ گئے ہیں، اپوزیشن جال میں پھنس گئی۔ انہوں نے کہا کہ میں امریکا، برطانیہ اور بھارت کا مخالف نہیں، میں کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ اس کی پالیسیوں کے خلاف ہوں،وہ کوئی جاہل آدمی ہوگا جو پورے ملک کے خلاف ہوجائے، اس سے بے وقوف آدمی کوئی نہیں ہوسکتا کیونکہ ایک ملک میں مختلف لوگ بستے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آپ ایک ملک کے خلاف کیسے ہوسکتے ہیں، آپ ان کی پالیسیوں کے خلاف ہوسکتے ہیں، امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا خلاف تھا اور میں ہمیشہ خلاف رہوں گا،ڈان لیکس میں ن لیگ نے بھارت کو پیغام دیا کہ ہماری فوج غلط ہے اور نواز شریف آپ کے ساتھ ہے، مودی نواز شریف کی تعریف کرتا تھا اور اس وقت کے آرمی چیف راحیل شریف کو دہشت گردوں کا سربراہ کہتا تھا اگر آج ایسا ہو تو یہ میرے لیے بڑے شرم کی بات ہے،فوج طاقتور نہ ہوتی تو ملک کے تین ٹکڑے ہوچکے ہوتے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی ملک کا اثاثہ ہیں، میں چاہتا ہوں اوورسیز پاکستانی ملک میں سرمایہ کاری کریں اسی لیے انہیں 5سال تک ٹیکس کی چھوٹ دی ہے، پاور آف اٹارنی ڈیجیٹل کرادی ہے اور اب انہیں مزید آسانیاں فراہم کریں گے۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ ساڑھے 3سال کے ان مشکل حالات میں جو کام ہماری حکومت نے کیا گزشتہ کسی حکومت نے اتنا کام نہیں کیا، برآمدات بڑھائے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا، آج پاکستان کی ریکارڈ برآمدات ہورہی ہیں جو ہماری توقعات سے بھی زیادہ ہیں اسی طرح ریمی ٹینس بھی بہت زیادہ ہوگئی ہیں جب کہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ٹیکس کلیکشن بھی ہم نے کی، میں ملک میں سالانہ آٹھ ہزار ارب سے زائد ٹیکس کلیکشن کرکے دکھاؤں گا۔وزیراعظم نے کہا کہ پہلی بار ہوا ہے کہ ہم نے نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی کے خلاف عالمی سطح پر مذمت کی بیانات دیے، اقوام متحدہ میں اس معاملے کو اجاگر کیا، فضل الرحمن نے جو اسلام کی دکان لگائی ہوئی ہے بتائیں کیا انہوں ںنے کبھی مغرب کے کسی چپڑاسی سے بھی اس حوالے سے مذمت کی؟ ہم نے اسلامو فوبیا کو عالمی سطح پر اجاگر کیا، اسلامو فوبیا کو یہاں موجود پاکستانی نہیں جانتے بلکہ اوورسیز پاکستانی جانتے ہیں۔عمران خان نے مزید کہا کہ ساری اپوزیشن کو چیلنج ہے کہ تم ان ہی کاموں میں ہمارا مقابلہ کرو، ہم ہر چیز میں تم سے آگے ہیں، ہم پہلی بار ملک میں تعلیمی نصاب ایک لے کر آئے ہیں، ہیلتھ انشورنس دی جو کہ غریب کا تصویر بھی نہیں، اسی لیے ڈاکوؤں کے ٹولے کو ڈر ہے کہ اگر یہ ایسا ہی کرتے رہے تو دوبارہ آجائیں گے، 50سال سے ملک میں کوئی ڈیم نہیں بنا، اب 2025ء تا 2028ء مہمند، داسو اور دیگر ڈیمز بن جائیں گے جو ملک کا پانی کا مسئلہ حل کریں گے۔ وزیراعظم نے حکومت کی کارکردگی پر میڈیا، ماہرین معیشت اور اپوزیشن جماعتوں کو مباحثے کا چیلنج دیا۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں