ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کراچی کی صنعتی ترقی میں رکاوٹ وفاقی اور سندھ حکومت کی عدم دلچسپی ہے

کراچی ( خصوصی رپورٹ : محمد انور) کراچی کی صنعتی ترقی میں وفاق اور سندھ حکومت کی عدم دلچسپی رکاوٹ ہے‘ بجلی، پانی اور گیس کی ضرورت کے مطابق عدم فراہمی، سڑکوں و امن و امان کی خراب صورتحال اور ناقص حکومتی پالیسیوں نے کراچی کی صنعتوں کو متاثر کیا ہے‘ اراضی اور لیبر مہنگی ہے‘ ایف بی آر شہر قائد کی صنعتوںکو نشانہ بنا رہا ہے۔ان خیالات کااظہار ممتاز تاجر مشہور صنعت کار عقیل کریم ڈھیڈی، معروف صنعت کار زبیر موتی والا، صنعت کار اور سابق ڈپٹی مئیر ارشد وہرہ، سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی کے سابق چیف تاجر احمد چنائے اورکراچی چیمبر آف کامرس انڈسٹریز کے سابق عہدیدار شارق وہرہ نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’کراچی کی صنعتی ترقی میںکیا رکاوٹیں ہیں؟‘‘ عقیل کریم ڈھیڈی کا کہنا تھا کہ کراچی کی صنعتیں تو ماشاء اللہ چل رہی ہیں لیکن مسائل بھی ہیں‘موجودہ حالات میں یہاںبڑی تعداد میں نئی فیکٹریاں لگنی چاہیے تھیں‘ اس مقصد کے لیے سندھ حکومت کو اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے سسٹم میں آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں‘ مہنگائی کی وجہ سے امن وامان کی صورتحال خراب ہوئی ہے جسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ زبیر موتی والا نے کہا کہ صنعتوں کے تمام مسائل کی ذمے دار وفاقی اور صوبائی حکومت ہے کیونکہ انہوں نے ان مسائل کے سدباب کے لیے اقدامات نہیں کیے ہیں‘ صنعتوں کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ انفرا اسٹرکچر کی عدم دستیابی ہے کیونکہ صنعتوں کو ان کی ضروریات کے مطابق گیس، بجلی اور پانی فراہم نہیں کیا جا رہا‘ دوسرے نمبر پر اراضی کی قیمتوں کا مسئلہ ہے‘ کراچی میں زمین پنجاب کے مقابلے میں 10 گنا مہنگی ہے‘ تیسری بات یہ کہ یہاں لیبر کاسٹ بھی پنجاب کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اور چوتھی وجہ ایف بی آر کے نوٹس کی بھرمار ہے جو صرف کراچی کی صنعتوں کے لیے ہے‘ پنجاب کی صنعتوں کے لیے اس قدر نہیں ہے حالانکہ کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتاہے۔ پانچواں مسئلہ یہ ہے کہ کراچی میں ذرائع آمدورفت کے نظام کا فقدان ہے‘ یہ دنیا کا واحد شہر ہے جو بندرگاہ سے آنے والے ٹریفک کو اندرونی سڑکوں سے گزرنے کی اجازت دیتا ہے‘ یہاں مال بردار ٹریفک کے لیے علیحدہ سڑکیں ہونی چاہئیں‘ ان مسائل کے حل کے بغیر صنعتی ترقی مشکل ہے۔ ارشد وہرہ کا کہنا تھا کہ کراچی کا سائٹ صنعتی زون ایک بڑا صنعتی علاقہتھا جو ساڑھے4 ہزار ایکڑ رقبے پر محیط ہے جہاں 3 ہزار صنعتیں تھیں لیکن مختلف حکومتوں کی ناقص پالیسی کی وجہ سے ان کی تعداد میںکمی آئی ہے‘ سائٹ میں پانی کی عدم فراہمی کی شکایات عام ہیں‘ اس ایریا میں 50 ملین گیلن یومیہ کی ضرورت ہے مگر صرف2 ملین گیلن ملتا ہے‘ صنعتی علاقہ انفرااسٹرکچر کے مسائل کا شکار ہے جبکہ امن و امان کی خراب ہوتی ہوئی صورتحال صنعتی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے‘ وفاقی حکومت نے 3، 4 مہینے سے گیس کی سپلائی بند کی ہوئی ہے‘ پنجاب میں صنعتوں کے لیے پانی نہیں خریدنا پڑتا ہے جو صنعتوں کی بھی بنیادی ضرورت ہے ۔تاجر احمد چنائے نے کہا کہ کراچی میں نئی صنعتوں کے قیام کے لیے اراضی کا صنعت کاروں کی توقعات کے مطابق نہ ملنا صنعتی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے جبکہ پہلے سے موجود صنعتوں کے لیے بجلی، پانی اورگیس سمیت دیگرانفرا اسٹریچر کی موجودگی ناگزیر ہے جس کا یہاں فقدان ہے جو حکومتوں کی توجہ کی طالب ہے۔ شارق وہرہ نے کہا کہ وفاق کی عدم دلچسپی کی وجہ سے کراچی میں صنعتی ترقی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ کراچی بندرگاہ سے منسلک ہے‘ اس کے بیشتر امور کی ذمے دار وفاقی حکومت ہے تاہم حکومت سندھ کو بھی چاہیے کہ یہاں سڑکوں کی مرمت اور اس سے متعلق دیگر معاملات پر توجہ دے کر انہیں بہتر بنائے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں