سکھر(نمائندہ جسارت ) سکھر ڈیویلپمنٹ الائنس کے چیئرمین حاجی محمد جاوید میمن نے کہا ہے کہ سیپکو کی جانب سے صارفین کے ساتھ مظالم برداشت سے باہر ہوتے جا رہے ہیں، طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باوجود شہریوں کے بلوں میں فیول پرائیز ایڈجسٹمنٹ کے نام پر اضافی رقم عائد کر کے سیپکو نے بھتا خوری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ جسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ حکومت ، وزارت پانی و بجلی اور سیپکو فوری طور پر صارفین کے بلوںمیں عائد فیول پرائیزایڈجسٹمنٹ کا خاتمہ کر کے صارفین کوبلوں کی درستگی کر کے جائز بل فراہم کیے جائیں گرمی کی آمد آمد ہے لہٰذا سیپکو کو چاہیے کہ علاقوں میں لوڈ بڑھنے سے ٹرانسفارمر آئے دن پھٹ جاتے ہیں لہٰذا گنجان آبادی والے علاقوں میں نئے ٹرانسفارمر لگائے جائیں۔بصورت دیگر اس کے خلاف بھرپور احتجاج شروع کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمے داری وزارت پانی و بجلی اور سیپکو پر عائد ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں مختلف علاقوں سے سیپکو کی جانب سے اضافی بلوں کی شکایات لیکر آنیوالے شہریوں کے وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایس ڈی اے رہنماغلام مصطفی پھلپوٹو، مفتی چمن زمان قادری، شہزادو بھٹو، عیدن جاگیرانی، محمد رضوان قادری، آغا طاہر مغل، آغا محمد اکرم درانی، شاہ محمد انڈھڑ، وحید کھوسو، وقار علی سومرو،حمید شیخ، حسیب جونیجو، شکیل قریشی،محمد منیر میمن، عمران شاہ، حافظ محمد شریف ڈاڈا، عبدالباری انصاری، ڈاکٹر سعید اعوان، کامریڈ امام الدین ، نعیم بلوچ، امداد جھنڈیر، انیس خان، فقیر رمضان کورائی، طارق علی میرانی، حافظ نیاز قادری و دیگر بھی موجود تھے۔ حاجی محمد جاوید میمن کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے پہلے ہی آئے روز بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر کے غربت، بیروزگاری کی ماری عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کر رہی ہے تو دوسری جانب وزارت پانی و بجلی کی جانب سے صارفین کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ پرائز عائد کر کے دہرے عذاب میں مبتلا کر دیا ہے، حکومت کے اس طرح کے اقدامات سے بجلی کی چوری میں مزید اضافہ ہوگا جس کا خمیازہ باقاعدہ بل ادا کرنے والے صارفین کو ہی بھگتنا پڑیگا۔ سیپکو صارفین کے بلوں میں اضافی رقم عائد کرنے کے بجائے بجلی چوری کی روک تھام کیلیے ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت، وفاقی وزارت پانی و بجلی اور سیپکو حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر صارفین کے بلوں سے عائد ایف پی اے کا خاتمہ کیا جائے بصورت دیگر ایس ڈی اے کی جانب سے اس کے خلاف بھرپور احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔