نئی دہلی: بھارتی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے نئی دہلی میں اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل جاری ہے لیکن یہ سست روی کا شکار ہے۔
چینی وزیر خارجہ وینگ یی نے نئی دہلی میں اپنے بھارتی ہم منصب اور قومی سلامتی کے مشیرسے ملاقات کی۔ ایک بھارتی افسر کے مطابق ملاقات میں بھارت اور چینی سرحد پر دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان امن قائم رکھنے کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔ انڈیا اور چین کی سرحد پر دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان شدید تنا وکی صورتحال قائم ہے اور بعض اوقات جھڑپیں بھی ہو جاتی ہیں۔جون 2020 میں دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی تھی جس میں ڈنڈوں اور پتھروں کا استعمال بھی کیا گیا۔ اس لڑائی میں بھارت کے بیس فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
چین کے مطابق اِس دستی لڑائی میں اس کے چار فوجی مارے گئے تھے۔بھارت کے وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو میں بتایا،” میں تازہ ترین صورتحال کے بارے میں کہوں گا کہ ابھی پیش رفت جاری ہے لیکن یہ پیش رفت کافی سست ہے۔” بھارتی وزیر خارجہ کا اشارہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی کمانڈرز کی پندرہ ملاقاتوں اور سفارتی روابط کی طرف تھا جن کے ذریعے سرد مہری کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہے۔جمعے کے روز وینگ یی کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے حوالے سے ایس جئے شنکر کا کہنا تھا کہ چین کی جانب سے سرحد پر فوجیوں کی تعیناتیوں سے مزید تنا ومیں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے پیش نظر دونوں ممالک کے درمیان معمول کے روابط قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کے چینی ہم منصب نے بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی خواہش ظاہر کی ہے۔
جئے شنکر کا کہنا تھا چینی وزیر خارجہ کو بتایا گیا کہ سرحد پر دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان تنا وکو مکمل طور پر ختم کرنے سے ہی امن کا قیام ممکن ہوگا۔بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے بتایا کہ انھوں نے جموں و کشمیر کے بارے میں چینی وزیر خارجہ کے اسلام آباد میں بیان پر بھی احتجاج کیا ہے۔گزشتہ سال فروری سے چین اور بھارت نے کچھ سرحدی علاقوں سے اپنے فوجی ہٹا لیے ہیں لیکن اب بھی کئی جگہوں پر فوجیوں کی بھاری تعداد تعینات ہے۔
بھارت نے دو سال بعد چینی وزیر خارجہ کے دورے کو میڈیا کے سامنے بہت زیادہ اہمیت نہیں دی تھی۔ تب یہ معلوم نہیں تھا کہ اس دورے کے کیا نتائج حاصل ہوں گے۔ وینگ یی نے بھارتی میڈیا سے کوئی بات چیت نہیں کی۔وینگ یی کے دورہ نئی دہلی سے ایک روز قبل بھارت نے کشمیر کے حوالے سے چینی وزیر خارجہ کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
بھارتی میڈیا نے اپنی رپورٹس میں کہا تھا کہ یی نے اسلام آباد میں او آئی سی کے اجلاس کے دوران کہا تھا کہ کشمیر کے حوالے سے چین ویسی ہی توقعات رکھتا ہے جیسے کہ پاکستان۔
