ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

یورپ کو مہاجرین سے متعلق پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے: فخر الدین  آلتون

صدارتی  اطلاعاتی  امور کے ڈائیرکٹر   فخر الدین  آلتون نے کہا کہ یورپ  کو ایک ایسے  انسانی ماحول پیدا کر نے کی ضرورت ہے  جہاں پناہ گزینوں کوچاہے ان کا تعلق کہیں سے بھی ہو  گلے لگایا جا سکے۔

آلتون نے ان خیالات کا اظہار  قطر میں مقیم الجزیرہ نیوز سائٹ کے لیے، "ترکی مہاجرین کے بحران کے بارے میں یورپ کو کیا سکھا سکتا ہے؟” کے عنوان سے ایک  کالم میں کیا ہے۔

فخر الدین  آلتون نے اپنے م کالم میں 24 فروری کو روسی حملے کے بعد یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے ساتھ ہی خطے میں پناہ گزینوں کا ایک نیا بحران پیدا ہونے  اور  صرف 4 ہفتوں میں تقریباً 35 لاکھ یوکرینی  باشندوں کے  پڑوسی ممالک میں  پناہ لینے کی طرف نشاندہی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  یورپ کو   ترکی سے  بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ترکی نے برسوں سے پناہ گزینوں کو بڑے  مؤثر اور انسانی طریقے سے ہینڈل کیا ہے ۔ یورپ موجودہ انسانی بحران سے کیسے نمٹے گااس بارے میں ترکی  کے تجربات سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی دس سال سے زہاد مدت سے  شام میں جنگ سے فرار ہونے والے پناہ کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔آلتون نے کہا کہ  ترکی  اس  وقت مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے  40 لاکھ سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے جس میں سب سے زایدہ تعداد شامی باشندوں کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانوں کو مذہب یا ظاہری شکل کی بنیاد پر پنہا  دینے کا فیصلہ کرنا   اخلاقی  لحاظ سے  یورپ کو زیب نہیں دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج، بدقسمتی سے، کچھ یورپی ممالک یوکرین میں جنگ سے فرار ہونے والے پناہ گزینوں کو ان کی شکل کے مطابق  پناہ دینے کی غلطی کرتے  ہوئے انہیں پناہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پناہ گزینوں کی پالیسی کو یوکرین جیسے بڑے پیمانے پر فوجی تنازع کے متاثرین کے ساتھ ثقافتی وابستگی پر استوار کرنا درست نہیں ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں