یوکیرینی صدر ولا دیمر زیلنسکی نے روس کے ساتھ منعقد ہونے والے مذاکرات میں ملکی حاکمیت کو ضمانت میں لینے اور زمینی سالمیت کے تحفظ کا وعدہ کرنے کی ضرورت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ نئی شرائط منصفانہ ہونی چاہییں۔
ویڈیو پیغام میں زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کی مسلح افواج، جنھوں نے روسی فوج کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے کی دونباس،خرکیف اور کیف میں دشمن کے حملوں کے خلاف لڑائی جاری ہے۔”ہمارے محافظ روس کے حملوں کو پسپا کر رہے ہیں، روسی قیادت کو ہدایت کر رہے ہیں کہ سادہ اور منطقی سوچ لازمی ہے۔ وقت ضائع کرنے کے لیے نہیں، بلکہ بامعنی اور ایماندارانہ نتائج کے لیے ہمیں بات چیت کرنی چاہیے۔”
ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روس کے ساتھ ملاقات "سنجیدہ” ہونی چاہیے،”16 ہزار روسی فوجی پہلے ہی مر چکے ہیں۔ یہ کس کے لیے؟ اس سے کس کو کیا فائدہ پہنچتا ہے؟ بات چیت سنجیدہ ہونی چاہیے۔ یوکرین کی خودمختاری کی ضمانت ہونی چاہیے، یوکرین کی علاقائی سالمیت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ یعنی حالات منصفانہ ہونے چاہئیں۔ بصورت دیگر یوکرین کے عوام اسے یقینی طور پر قبول نہیں کریں گے۔”