کراچی (ر پورٹ: قاضی جاوید) سرد نہیں، گرم جنگ شروع ہوچکی ہے‘ امریکا آگے بڑھا تو ایٹمی جنگ کا بھی خطرہ ہے‘ امریکا اور روس دونوں ہی مشرقی یورپ پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتے ہیں ‘ اپنی جنگ کے لیے یوکرین کو استعمال کیا جا رہا ہے‘ سرد جنگ کو چین اور پاکستا ن تک لا یا جا رہا ہے‘ روس، چین نے بلاک بنا لیا‘ سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم کے درمیان نظریاتی اختلافات ختم نہیں ہوئے۔ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی کی سینیٹر شری رحمن، کالم نگار ڈاکٹر سمیع اللہ اور ایڈیٹر ایشیا ورلڈ نیوز ابزرور زبیر یعقوب نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’کیا دنیا ایک نئی سرد جنگ کی نذر ہونے والی ہے؟‘‘ سینیٹر شری رحمن نے کہا کہ سرد نہیں گرم جنگ شروع ہوچکی ہے اور امریکا آگے بڑھا تو ایٹمی جنگ شروع ہو سکتی ہے جس کی لپیٹ میں ساری دنیا آجائے گی‘ نومبر 1989ء میں جب جرمنی کی دیوار برلن کو گرایا گیا تو ہم نے یہ سمجھا کہ دنیا کی مشرق اور مغرب کی پرانی تفریق اب تاریخ کا حصہ بن گئی ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم کے درمیان نظریاتی اختلافات ختم نہیں ہوئے‘ اس کو اب آگے بڑھایا جا رہا ہے ‘ یہ کام صرف روس نہیںکر رہا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکا بھی مشرقی یورپ پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کی کوشش میں مصروف ہے‘ یوکرین جو کبھی سوویت یونین کا حصہ تھا اس کا روسی فیڈریشن سے الگ ہو جانا روسی صدر پیوٹن کی نظر میں ان کے ملک کی بے عزتی تھا‘ امریکا اور مغرب اپنی جنگ کے لیے بندوق یوکرین کے کاندھے پر رکھ کر چلا رہے ہیں‘ ایک بات یہ بھی کہنا چاہتی ہوں کہ دنیا ایک نئی سرد جنگ کی نذر ہونے والی نہیں بلکہ ہو چکی ہے‘ کواڈ، اور بحرِ ہند و بحرِ کاہل بڑی طاقتوں کی پنجا آزمائی کا مرکز بن چکے ہیں۔ کالم نگار ڈاکٹر سمیع اللہ نے کہا کہ سرد جنگ کو چین اور پاکستا ن تک لانے کی کو شش کی جا رہی ہے‘ روس اور امریکا کی جنگ بہت پرانی ہے اور اس میں امریکا نے ماضی میں مسلمانوں کے کاندھے پر روس کے خلاف کارروائی کی ہے لیکن اب اس جنگ میں امریکا کے ساتھ یورپی ممالک بھی زبانی جمع خر چ کر رہے ہیں‘ 2014ء میں روسی صدر پیوٹن نے اپنے فوج بھیج کر یوکرین کے سب سے زیادہ علامتی روسی علاقے کریمیا پر دوبارہ قبضہ کرلیا اور بعد ازاں وہاں ریفرنڈم کرا کر اس کو روس کا حصہ بنا لیا تھا‘ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے خلاف تھا لیکن مغرب پھر بھی اس بات پر بضد رہا کہ امریکا اور یورپ روس کے ساتھ کاروبار کر سکتے ہیں‘ اب تو صورت امریکا کے لیے اور بھی خراب ہو چکی ہے‘ یورپ اور عرب ممالک بھی اب روس سے تعلقات خراب نہیں کر نا چاہتے ہیں اور وقت کی ضرورت بھی یہی ہے کہ سب مل کر دنیا کو چلائیں لیکن امریکا کی پالیسی لڑاؤ اور حکومت کروکی ہے۔ زبیر یعقوب نے کہا کہ سرد جنگ اب خطے اور اسپیس میں لڑنے کی تیاری ہو رہی ہے‘ سائبر حملوں اور ان کے بچاؤ کے نئے طریقے معلوم کیے جا رہے ہیں اور اس پر اقوامِ متحدہ بھی ایک مجبور سا ادارہ بن گیا‘ گزشتہ10 برس میں روس نے چین کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر ایک نیا بلاک بنایا ہے جو لازمی نہیں کہ مغرب کے لیے جارحانہ عزائم رکھتا ہو لیکن یہ بلاک مغربی تنقید کی صورت میں ایک دوسرے کو مدد فراہم کرتا ہے‘ چین کے صدر شی جن پنگ اور روسی صدرولادیمیر پیوٹن نے یہ مشترکہ گروپ تشکیل دیا ہے جس کے بعد چین، روس کے یوکرین پر حملے کی مذمت کرنے سے انکاری ہے اور تائیوان جو چین کے زیر اثر ہے اور جس کے بارے میں چینی صدر نے ہمیشہ کہا ہے کہ چین وہاں حملہ نہیں کرے گا‘ اب وہاں کے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اگلی باری ان کی ہے؟ اگر ایسا ہے تو مجموعی طور پر یہ دنیا آج سے چند سال پہلے کی نسبت رہنے کے لیے ایک بہت بری جگہ ہے‘ اگر موازنہ کیا جائے تو پرانی سرد جنگ کے دوران کے سال بہت آسان تھے اور دنیا کے بہت سے حصوں پر حکمرانی کے اصول کافی واضح تھے‘ کمیونزم کے خاتمے کے بعد سے پرانے اصولوں کی کتاب کو پھاڑ کر پھینک دیا گیا‘ اب سرحدیں اتنی مبہم ہیں کہ کوئی نہیں جانتا کہ ریڈ لائن کہاں ہے۔
