ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکہ میں 14 اپریل کو قومی سکھ ڈے منانے کی تجویز

ہندوستانی نژاد امریکی قانون ساز راجہ کرشنامورتی سمیت 12 سے زائد قانون سازوں نے 14 اپریل کو ‘قومی سکھ ڈے’ کے طور پر منانے کے لیے ایوان نمائندگان میں ایک قرارداد پیش کی ہے۔ اس قرارداد کا بنیادی مقصد امریکہ میں مقیم سکھ برادری کی شراکت کو اجاگر کرنا ہے۔
امریکہ کی ترقی میں سکھ برادری کی اہم شراکت کے حصے کے طور پر، قرارداد امریکی شہریوں کو بااختیار بنانے اور متاثر کرنے میں سکھوں کے کردار کے احترام کے طور پر ‘قومی سکھ ڈے’ کا اعلان کرنے کی حمایت کرتی ہے۔ ایم پی میری گیل سانلون ایوان میں پیش کی گئی تحریک کی پیشکار ہیں، جبکہ کیرن باس، پال ٹونکو، برائن کے۔ فٹز پیٹرک، ڈینیئل میوز، ایرک سویل ویل، راجہ کرشنامورتی، ڈونلڈ نورکراس، اینڈی کم، جان گارامندی، رچرڈ ای نیل اوربرینڈن ایف شریک حامی ہیں۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سکھ کاکس کمیٹی، سکھ کوآرڈینیشن کمیٹی اور امریکن سکھ گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی (AGPC) نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔ قرار داد پیش کرنے پر سکھ برادری میں زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی معروف امریکی ماہر امرت کور آکرے نے امریکی قانون سازوں کو بتایا کہ امریکہ میں سکھ برادری کے خلاف مذہبی امتیاز اور نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے انتظامیہ اور امریکی کانگریس پر زور دیا کہ وہ اسے ختم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ امریکہ میں سچ دی کھوج چلانے والے جگموہن سنگھ توت کہتے ہیں کہ امریکہ میں سکھوں کو کئی بار امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اپنی پگڑی اور داڑھی کی وجہ سے انہیں امریکہ میں کئی مقامات پر نفرت انگیز تبصروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی)کے مطابق سال 2020 میں سکھوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم کے 67 واقعات رپورٹ ہوئے جو کہ 2015 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں