یونان کے سابقہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ ایوانگیلوس وینیزیلوس نے کہا ہے کہ بحیرہ ایجیئن یونان کی جھیل نہیں ہے۔
دارالحکومت ایتھنز میں اکنامک پوسٹ فورم سے خطاب میں وینیزیلوس نے علاقائی پیش رفتوں اور ترکی۔یونان تعلقات کا جائزہ لیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ بحری سرحدوں کے معاملے میں ترکی اور یونان کے درمیان عدم مفاہمت کو بین الاقوامی قانون کے دائرے میں حل کیا جانا ضروری ہے۔
وینیزیلوس نے کہا ہے کہ ترکی مشرقی بحیرہ روم میں ایک مقام رکھتا ہے اور ایک ساحلی ملک ہے۔ یقیناً یونان، قبرص، اسرائیل، لبنان اور مصر بھی موجود ہیں۔ جہاں تک بحیرہ ایجئین کا تعلق ہے یہ معدنی فیلڈ نہیں بنے گا۔ ایجیئن یونان کی جھیل نہیں ہے۔ وہاں ترکی بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ یونان، علاقے میں ترکی کی حیثیت کی تفہیم کا حامل بیانیہ اختیار کر سکتا ہے۔