اسلام آباد(صباح نیوز)وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں دھمکی آمیز خط بھیجنے والے ملک کا ذکر کرتے ہوئے امریکا کا نام لے لیا۔ وزیراعظم نے جمعرات کو قوم سے براہ راست خطاب کیا اور اس دوران انہوں نے خارجہ پالیسی پر بات کی۔انہوںنے قوم سے خطاب میں مراسلے والے ملک کا ذکر کرتے ہوئے امریکا کا نام لیا اور پھر غلطی کا احساس ہونے پر رکے اور کہا کہ ملک کا نام نہیں لینا چاہیے،مطلب کسی اور ملک سے باہر سے۔ وزیراعظم نے بتایاکہ7مارچ کو ایک ملک سے دھمکی آمیز پیغام آتا ہے یہ وزیراعظم ہی نہیں بلکہ ہماری قوم کے خلاف ہے، عدم اعتماد ابھی نہیں آئی تھی اس ملک کو پہلے سے ہی پتا چل گیا تھا پاکستان میں جو ہو رہا ہے اس سے صاف ظاہر ہے ملک میں جو کیا جا رہا ہے ان کے باہر رابطے تھے ،کہا گیا عمران خان عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو پاکستان کو معاف کر دیں گے عدم اعتماد ناکام ہوئی تو پاکستان کو سخت نتائج کا سامنا ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ تمام چیزیں ریکارڈ پر ہیں ملاقات کے منٹس لیے گئے کوئی زبانی دھمکی نہیں دی گئی بلکہ آفیشل مراسلہ ہے کوئی وجہ نہیں بتائی گئی بس کہا گیا عمران خان نے روس جانے کا تنہافیصلہ کیا حالانکہ روس کا دورہ مشاورت کرکے گئے تھے، ہمارے سفیر کو بولا گیا عمران خان کی وجہ سے دورہ روس ہوا، خاص پاکستان کو کہا گیا آپ روس کیوں چلے گئے جیسے ہم ان کے نوکر ہیں۔عمران خان نے تحریک عدم اعتماد اور بیرون سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ استعفا نہیں دوں گا، اتوار کو تحریک عدم اعتماد پر جو بھی فیصلہ آئے گا اس کے بعد مزید تگڑا ہو کر سامنے آوں گا ، خوش فہمی میں نہ رہیں کہ عمران خان خاموش ہو کر بیٹھ جائے گا، مقابلہ کرنا آتا ہے کسی صورت سازش کو کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ براہ راست قوم سے مخاطب ہوں، آج مجھے بہت اہم بات کرنی ہے پاکستان اس وقت ایک فیصلہ کن موڑ پرہے، 2راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کون ساراستہ لینا ہے قوم کو بتانا چاہتاہوں ،میری طرح کاشخص سیاست میں کیوں آیا دوسرے سیاستدانوں کو دیکھیں انہیں سیاست سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا قائداعظم ہندوستان میں بڑے وکیل تھے سیاست میں آنے سے پہلے ان کی حیثیت تھی۔وزیراعظم نے سیاسی میدان میں قدم رکھنے کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ سیاست شروع کی تو اپنے منشور میں 3 نکات رکھے سب سے پہلے انصاف! طاقتوروں کوقانون کی گرفت میں لانا انصاف ہے انسانیت، اسلامی ریاست میں رحم ہوتا ہے اور خودداری، میرے منشور میں خودداری شامل تھی، غلامی شرک ہے،لاالہ اللہ انسان کو غلامی سے نجات دلاتی ہے 14سال میرا مذاق اڑایا گیا لیکن میں سیاست میں رہا،بہت لوگوں نے کہاعمران خان آپ کوسیاست کی کیا ضرورت تھی؟ مطلب کیاضرورت کے لیے سیاست میں آئیں نظریے کے لیے نہ آئیں، مولانارومی کہتے ہیں جب اللہ نے پر دیے تو کیوں چیونٹیوں کی طرح زمین پر رینگ رہے ہیں ،اللہ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے، سب سے بڑا شرک پیسے اور خوف کی پوجا کرنا ہے یہ نہیں وہ بڑا ملک ہے اس کو کچھ نہیں کہنا۔وزیراعظم نے کہا کہ اقتدارملتے ہی فیصلہ کیا تھا ہماری خارجہ پالیسی آزاد ہو گی آزادخارجہ پالیسی کامطلب یہ نہیں کہ کسی ملک کے خلاف ہوں گے کبھی نہیں کہا کہ ہم اینٹی امریکا یا اینٹی بھارت ہوں گے، کرکٹر رہا ہوں ، امریکا، بھارت، برطانیہ کے ماحول کو اچھی طرح جانتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہرجگہ کہادہشت گردی کے خلاف جنگ سے ہماراکوئی لینادینانہیں تھا ،نائن الیون میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا، ہمیں کیا ضرورت ہے اپنے ملک کوکسی کی جنگ میں لے جائیں، مشرف نے غلطی کی کہاکہ ہم امریکا کے اتحادی ہیں ،مشرف نے کہا ہم جنگ لڑ رہے ہیں، دنیا بھر سے جہادی لائے گئے، 80کی دہائی میں سویت یونین ہارتی ہے، امریکا یہاں سے چلا جاتا ہے، امریکا جاتے ہی پاکستان پر پابندیاں لگا دیتا ہے۔عمران خان کے بقول نائن الیون ہوتاہے، امریکا پھر آجاتا ہے، امریکا افغانستان پرحملہ کرتا ہے، پاکستان اس کی حمایت کرتاہے اورقربانیاں دیتاہے، 80ہزار جانوں کی قربانی دی،قبائلی علاقے مکمل طورپرتباہ ہوگئے قبائلی علاقوں کو اچھی طرح جانتا ہوں پرامن علاقے تھے ،قبائلی علاقوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اندازہ نہیں لگا سکتے ،ان پر کیا گزری ظاہر ہے لوگوں کو پہلے کہا گیا جہاد ہے بعد میں کہادہشت گردی ہے۔ عمران خان نے واضح کیا کہ جب حکومت ملی تو پہلے دن سے کہا پاکستان کی خارجہ پالیسی پاکستان کے لوگوں کے لیے ہو گی کشمیر کا اسٹیٹس تبدیل کرنے پر بھارت کے خلاف ہر فورم پر بات کی، کشمیر کا اسٹیٹس تبدیل کرنے سے پہلے بھارت سے دوستی کی پوری کوشش کی تھی۔وزیراعظم نے برملا کہا کہ میرے ساتھ کرکٹ کھیلنے والے جانتے ہیں آخری بال تک کھیلتا ہوں میں نے زندگی میں کبھی ہار نہیں مانی، تحریک عدم اعتمادمیں دیکھیں گے کون اپنا ضمیر بیچ کر آتا ہے، جمہوریت میں لوگ پیسوں کی آفر پر استعفا دے دیتے تھے، پوری قوم دیکھ رہی ہے کہاں خریدو فروخت ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے انصاف کے نظام میں طاقتوروں کوگرفت میں لانے کی صلاحیت نہیں، کہتے ہیں عمران خان نے ملک کو خراب کر دیا ہے، عمران خان کو تو ساڑھے3سال ہوئے،30 سال سے تویہ باریاں لے رہے تھے، ساڑھے3سال جوہم نے کیا آزاد ماہرین کو بٹھائیں اور بات کرالیں۔وزیراعظم کا کہنا تھاکہ کچھ نظریاتی نہیں ہورہا ہے صرف ضمیروں کاسودا ہو رہا ہے، ملک کا سودا اور ملکی خودمختاری کا سودا ہو رہا ہے، اپوزیشن کوکہتاہوں لوگ آپ کومعاف کریں گے نہ بھولیں گے اپوزیشن کوکہتاہوں جو لوگ آپ کوہینڈل کررہے ہیں انہیں بھی عوام معاف نہیں کریں گے ،آزادخارجہ پالیسی رکھنے والی حکومت کو گرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میرصادق اور میرجعفر کون تھے؟ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے انگریزوں کے ساتھ مل کراپنی قوم کو غلام بنایا، یہ موجودہ میرصادق اورمیرجعفرہیں ،ساری زندگی آپ کوقوم معاف نہیں کرے گی جو سودا کر چکے ہیں انہیں کہوں گا ملک وقوم کے لیے واپس آجائیں اتوارکوجوغداری ہورہی ہے عوام کوبتاناچاہتاہوں انہیں یادرکھیں عوام سے کہتا ہوں، ایک ایک غدارکاچہرہ یاد رکھنا، قوم بھولے گی نہ جوآپ کے پیچھے ہیں انہیں معاف نہیں کرے گی۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کااجلاس وزیراعظم ہائوس میں منعقد ہوا۔ قومی سلامتی کمیٹی نے دھمکی آمیز مراسلے پر گہری تشویش کا اظہار اور غیر ملکی عہدیدار کی طرف سے استعمال کی گئی زبان کو غیر سفارتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مراسلہ پاکستان کے داخلی امورمیں کھلی مداخلت کے مترادف ہے جو ناقابل برداشت ہے، اس پر باقاعدہ سفارتی ذرائع سے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔