الجیریا:الجزائر کی حکومت نے مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کے آغاز پر ایک ہزار سے زائد مجرموں کو معاف کر دیا ہے۔ صدر عبدالمجید تببونے نے جمہوریت نواز ’’ہیرک احتجاجی تحریک‘‘سے تعلق کے الزام میں حراست میں لیے گئے 70 افراد کی معافی کا بھی حکم دیا۔
احتجاج سے منسلک 70 قیدیوں کو اس ہفتے عارضی طور پر رہا کر دیا گیا تھا اور اب وہ کیس کی سماعت کا انتظار کر رہے تھے۔ ہیرک احتجاجی تحریک کا آغاز 2019 کے اوائل میں ہوا اور اس نے شمالی افریقی ملک کے بڑے شہروں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس تحریک نے بالآخر طویل مدتی صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا تھا۔
مارچ 2020 میں کورونا وائرس وبا کے باعث مظاہروں کا سلسلہ روک دیا گیا تھا۔ زیر حراست افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کا کہنا تھا کہ الجزائر میں تقریبا 300 افراد ہیرک احتجاجی تحریک، صحافت یا ایکٹیویزم کے باعث اب بھی زیر حراست ہیں۔