ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عمران خان کے پاس اب کیا آپشن بچے ہیں؟

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی عوام نے ہی مجھے ملک کا چیف ایگزیکٹو بنایا، مجھے ان کے درمیان ہی جانا ہے۔ میں کبھی آنے والی امپورٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کروں گا بلکہ ان کیخلاف عوام میں نکلوں گا۔ انہوں نے اتوار کے روز ملک گیر پرامن احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم نماز عشا کے بعد سڑکوں پر نکلے۔ انہوں نے کہا کہ میرے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تو میں نے اسمبلی ہی توڑ دی تاکہ واپس عوام میں جائوں۔ تاہم مجھے سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی لیکن میں عدلیہ کی عزت کرتا ہوں کیونکہ میرا ایمان ہے کہ کوئی معاشرہ انصاف کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ میں عدلیہ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اسے تسلیم کرتا ہوں۔
قانونی ماہر بیرسٹر شہاب اوستو کہتے ہیں سپریم کورٹ کے فیصلے میں کیوں کہ وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر رائے شماری کے احکامات جاری کیے گئے ہیں اس لیے اب وہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کی تجویز صدر کو دوبارہ بھجوانے کا آئینی اختیار نہیں رکھتے۔ لیکن ماضی میں اس کی مثال ملتی ہے۔ 28 مئی 1993 کو اُس وقت کے وزیرِ اعلیٰ پنجاب منظور وٹو نے تحریکِ عدم اعتماد کوناکام بنانے کے لیے پہلے اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز گورنر چوہدری الطاف حسین کو بھجوائی تھی جس پر گورنر نے عمل درآمد کے احکامات جاری کردیے تھے۔ معروف قانون دان حامد خان کی کتاب ‘جوڈیشنل اینڈ پولیٹیکل ہسٹری آف پاکستان’ کے مطابق پنجاب اسمبلی کی تحلیل سے متعلق لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد آچکی تھی اس لیے وہ اسمبلی تحلیل کرنے کے مجاز نہیں تھے۔ وزیرِ اعلیٰ منظور وٹو نے عدالت میں یہ جواز پیش کیا تھا کہ وہ اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کا نوٹی فکیشن جاری ہونے سے قبل ہی گورنر کو ارسال کرچکے تھے۔ لیکن عدالت میں وہ اپنا یہ دعویٰ درست ثابت نہیں کرسکے تھے۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی وزیرِ اعلیٰ منظور وٹو نے اسمبلی توڑنے کی تجویز گورنر کو ارسال کی جس پر گورنر چوہدری الطاف نے دوبارہ اسمبلی توڑنے کا حکم جاری کیا۔ گورنر کے اس اقدام کے بعد پنجاب میں آئینی بحران پیدا ہوگیا تھا۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور قانون دان جسٹس ریٹائرڈ رشید اے رضوی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اور قومی اسمبلی کی تحلیل کے صدارتی حکم نامے کے بعد از خود نوٹس کی پہلی ہی سماعت میں صدر اور وزیر اعظم کو عدالتی حکم نامے کا پابند بنایا تھا۔ ان کے بقول اعلیٰ عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں بھی تین اپریل 2022 کا یہ آرڈر برقرار رکھا ہے۔ جسٹس (ر) رشید اے رضوی کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیرِ اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک مؤثر ہوچکی ہے اس لیے آئین کے آرٹیکل 58 ایک کے تحت وہ اب صدر کو اسمبلی توڑنے کی تجویز ارسال نہیں کرسکتے۔ ان کے پاس عدالتی حکم پر عمل درآمد روکنے کے لیے کسی اقدام کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔ان کے بقول اب عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہونے کے بعد ہی وزیرِ اعظم اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز صدر کو بھیج سکتے ہیں۔

 

جسٹس (ر) رشید اے رضوی کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق قومی اسمبلی میں 172 ارکان کی عددی حمایت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک یا قائدِ ایوان کے انتخاب میں جو بھی 172 کا یہ نمبر حاصل کرلیتا ہے کامیاب قرار پائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اسمبلی کے 172 ارکان یعنی 51 فی صد ارکان مستعفی ہوجائیں تو ایسی صورت میں مشکل پیش آسکتی ہے۔ بیرسٹر شہاب اوستو کے مطابق استعفے دینے کا آپشن تو ہر وقت کھلا ہے لیکن موجودہ صورتِ حال میں بڑی تعداد میں استعفوں سے بھی عدالتی فیصلے پر عمل درآمد میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی اور حکومتی ارکان کے استعفوں کی صورت میں عددی صورتِ حال بھی زیادہ تبدیل نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ارکان کے استعفوں کی صورت میں ان کی منظوری کا ایک طویل عمل ہے جس میں اسپیکر فرداً فرداً ارکان کو اپنے چیمبر میں بلا کر استعفوں کی تصدیق کرتا ہے اور اس کے بعد الیکشن کمیشن کو ان کا نوٹی فکیشن جاری کرنے کے لیے کہتا ہے۔
شہاب اوستو کے مطابق اگر حکومتی ارکان استعفیٰ دے بھی دیتے ہیں تو اس کی منظوری کا عمل اتنا طویل ہے کہ اس دوران عدم اعتماد کی تحریک پر عمل درآمد ہوسکتا ہے۔ کیوں کہ ان کے بقول مستعفی ہونے والوں کی نشستیں بھی اسی وقت خالی تصور ہوں گی جب ان کے استعفوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹی فکیشن جاری ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں پہلے ہی یہ کہہ دیا ہے کہ وہ آئندہ سات ماہ تک انتخابات نہیں کراسکتے تو ایسی صورت میں 140 یا اس سے زیادہ استعفوں کے بعد خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخابات کرانا کس طرح ممکن ہوگا۔ سپریم کورٹ میں عدالت نے رولنگ کے ذریعے عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کرنے کی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس رولنگ کے بعد اسمبلیوں کی تحلیل، نگراں حکومت کے قیام اور نئے انتخابات سے متعلق وزیر اعظم اور صدر کے اقدامات کو بھی کالعدم قرار دیا ہے۔ ایسی صورت میں کیا ڈپٹی اسپیکر ، صدر، وزیرِ اعظم، وزیرِ قانون یا ان اقدامات اور فیصلوں میں شامل دیگر عہدے داران کے خلاف مستقبل میں کوئی کارروائی ہوسکتی ہے؟
ان کے بقول سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد فی الوقت یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اگر نئی حکومت آتی ہے تو اس کے پاس ڈپٹی اسپیکر کے خلاف آئندہ کارروائی کے لیے مواد مل گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2007 میں جنرل پرویز مشرف کی نافذ کی گئی ایمرجنسی کو 2009 کے سپریم کورٹ کے 14 رکنی بینچ نے غیر آئینی قرار دیا تھا۔ اس کے بعد پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ بنا اور اسپیشل کورٹ نے انہیں اس میں سزا سنائی۔ اسی طرح حالیہ کیس میں بھی آئندہ آنے والی حکومت کو کارروائی کے لیے مواد مل گیا ہے۔ حیدر امام رضوی کا کہنا تھا کہ مشرف کیس میں اگرچہ لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو معطل کردیا تھا جس کے خلاف سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے۔ بیرسٹر شہاب اوستو کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم میں ڈپٹی اسپیکر، وزیرِ اعظم اور صدر کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا ہے لیکن اس میں اس بدنیتی کو ثابت کرنا ایک مشکل مرحلہ ہوگا اور امکان یہی ہے کہ عدالت اس سے گریز کرے گی۔
قانون دان بیرسٹر سالار خان کہتے ہیں "ڈپٹی اسپیکر کے اقدام کو غیر آئینی قرار دینے کے معاملے میں کچھ سنسنی پائی جاتی ہے کہ یہ آئین سے غداری ہے اور اس پر آرٹیکل چھ لگ سکتا ہے۔ میرے نزدیک یہ آئین کی اس درجے کی خلاف ورزی نہیں جس پر سنگین غداری کا اطلاق ہوتا ہو یا اسے آئین شکنی سے تعبیر کیا جاسکے۔” ان کے بقول اس کی مثال ایسی ہے کہ اگر صدر کوئی آرڈیننس جاری کرتا ہے اور بعد میں عدالت اسے غیر آئینی قرار دیتی ہے تو اس اقدام کو کالعدم کرنے کے بعد صدر یا کسی آئینی عہدے دار کے خلاف کوئی اضافی کارروائی نہیں جاتی۔ ان کے مطابق بعض مرتبہ بدنیتی ثابت ہونے کے باوجود آئینی معاملات میں عدالت صرف اقدام کی نوعیت کا تعین کرنے سے آگے نہیں جاتی اور آرٹیکل چھ سے متعلق کارروائی وفاقی حکومت اور پارلیمان کا استحقا ق ہے۔ اگر وہ چاہیں تو مستقبل میں اس پر کوئی کارروائی کرسکتے ہیں۔
اگر عمران خان اقتدار سے محروم بھی ہو جاتے ہیں تو ان کی سیاست مستقبل قریب میں مکمل طور پر ختم نہیں ہو گی۔ اپنے سابق امریکی ہم منصب ٹرمپ کی طرح ان کا سیاسی کیریئر بھی ابھی اختتام کو نہیں پہنچا۔ وہ غلط معلومات پھیلانے کے لیے مذہب اور مغرب مخالف جذبات کو استعمال کرتے رہیں گے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کے اگلا وزیر اعظم بننے کا امکان موجود ہے۔ شہباز شریف کو اپوزیشن جماعتوں میں وسیع حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ کہ ان کا بنیادی کام حقیقی معنوں میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے اصلاحات کا نفاذ ہے۔ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک وسیع البنیاد اتحادی حکومت بنانا چاہتا ہے۔ اگر اپوزیشن جماعتیں متحد رہیں تو حقیقی امید ہے کہ وہ اگلے الیکشن میں عمران خان کو شکست دے کر ان کے خوفناک طرز حکمرانی سے پیدا ہونے والے بہت سے مسائل کو حل کر سکتی ہیں۔ لیکن اگر حزب اختلاف میں باہمی لڑائیاں شروع ہو گئیں تو عمران خان موقع سے فائدہ اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔
ہفتہ، 9 اپریل 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں