ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

وزیراعظم کی آرمی چیف سے ملاقات، قومی سلامتی امور پر تبادلہ خیال

وزیراعظم شہباز شریف سے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی جہاں قومی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آج وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی’۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘ملاقات کے دوران قومی سلامتی سے متعلق پیشہ ورانہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا’۔

خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ان سے ملاقات کر رہے ہیں۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی حلف برداری تقریب میں بھی آرمی چیف نے شرکت نہیں کی تھی، جس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے تھے۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے گزشتہ ہفتے پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال پر بتایا تھا کہ اس روز ان کی طبیعت ناساز تھی، وہ آفس بھی نہیں آئے تھے، اس کی اور کوئی وجہ نہیں تھی۔

میجر جنرل بابر افتخار نے سول-ملیٹری تعلقات سے متعلق ایک سوال پر کہا تھا کہ نیوٹرل لفظ شاید صحیح طریقے سے فوج اور اداروں کے مؤقف کی وضاحت نہیں کرتا، ہمارا آئینی اور قانونی کردار کسی قسم کی سیاسی وابستگی یا سیاست میں عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا تھا کہ پچھلے 74سال میں تمام سیاسی جماعتوں کا فوج سے ایک ہی مطالبہ رہا ہے کہ فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، اب ہم نے اس کو عملی جامہ پہنایا۔

انہوں نے کہا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی سیاسی قیادت سے کہا تھا کہ ہم اپنے آپ کو سیاست سے دور رکھنا چاہتے ہیں، میں کبھی کسی کے پاس نہیں گیا تو مجھ سے کیوں آپ بار بار ملنے آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے گلگت بلتستان پر ایک اجلاس میں بھی تمام سیاسی قیادت کی موجودگی میں یہ بات ہوئی تھی اور کسی نے کہا تھا کہ آپ سیاست میں مداخلت کرتے ہیں تو آرمی چیف نے کہا تھا کہ ہم سیاست سے بالکل دور ہیں، آپ ہمیں اس میں مزید مت گھسیٹیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ ہمارا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، پچھلے ضمنی انتخاب میں کسی نے یہ الزام نہیں لگایا کہ فوج کی طرف سے مداخلت کی گئی، بلدیاتی انتخابات میں کسی نے کوئی الزام نہیں لگایا، پہلے لوگ کہتے تھے کہ کال آتی تھیں یا فون آتے تھے، آج کوئی کہہ رہا ہے، یہ بہت اچھا فیصلہ ہے اور آگے بھی ایسے ہی رہے گا۔

منبع: ڈان نیوز

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں