اسلام آباد( نمائندہ جسارت+مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف کی اتحادیوں پر مشتمل 37 رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے ۔ جن میں 30 وفاقی وزرا، 4 وزرائے مملکت اور 3 مشیر شامل ہیں۔حلف برداری کی تقریب منگل کو ایوان صدر میں منعقد ہوئی جس میں قائم مقام صدر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے نئی کابینہ کے اراکین سے حلف لیا۔کابینہ میں ن لیگ کے 14، پیپلز پارٹی کے 9، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 4، ایم کیو ایم کے 2، بلوچستان عوامی پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے ایک، ایک وفاقی وزیر شامل ہیں۔کابینہ ڈویژن نے وفاقی وزرا کے قلمدانوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے مطابق خواجہ آصف دفاع،رانا ثنا اللہ داخلہ، رانا تنویر حسین کو تعلیم، احسن اقبال منصوبہ بندی و ترقی ،مریم اورنگزیب اطلاعات و نشریات ،خواجہ سعد رفیق ریلوے اور ہوا بازی کے وفاقی وزیر ہوں گے جبکہ سید خورشید شاہ وفاقی وزیر آبی وسائل اور نوید قمر کو وزیر تجارت بنادیا گیا۔شیری رحمن موسمیاتی تبدیلی، عبدالقادر پٹیل صحت کے وزیر ہوں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق شازیہ مری کو تخفیف غربت اور سماجی تحفظ کی وفاقی وزیر اور سید مرتضی محمود کو صنعت پیداوار کا وفاقی وزیربنایا گیا جبکہ ساجد حسین طوری اوورسیز پاکستانیز اورانسانی وسائل کی ترقی کے وزیر ہوں گے۔نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ احسان الحق مزاری کو انسانی حقوق اور عابد حسین بھیو کووزارت نجکاری کا قلمدان دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مولانا فضل الرحمن کے صاحبزادے اسعد محمود کو وفاقی وزیر مواصلات بنا دیا گیا جبکہ عبدالواسع کو ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی وزارت اور مفتی عبدالشکورکو وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کا قلمدان سونپا گیا ہے۔سینیٹر طلحہ محمود کو وفاقی وزیرسیفران، امین الحق کو آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن اورفیصل سبزواری کو بحری امور کا قلمدان دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق اسرارترین کو دفاعی پیداوار، شاہ زین بگٹی کوانسداد منشیات اور طارق بشیر چیمہ کو نیشنل فوڈ سیکورٹی کی وزارت دی گئی۔ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا وزیر مملکت برائے خزانہ اور حنا ربانی کھر وزیر مملکت برائے خارجہ ہوں گی۔ کابینہ ڈویژن کے مطابق قمر زمان کائرہ وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر اورگلگت بلتستان ہوں گے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مفتاح اسماعیل کو آئین کے آرٹیکل 91 کی شق 9 کے تحت وفاقی وزیر خزانہ بنایا گیا ہے۔خیال رہے کہ مفتاح اسماعیل سینیٹ یا قومی اسمبلی کے رکن نہیں ہیں۔آئین کے آرٹیکل 91 کے تحت غیرمنتخب شخص 6 ماہ کے لیے وفاقی وزیر بنایا جاسکتا ہے تاہم کابینہ میں رہنے کے لیے غیرمنتخب شخص کو سینیٹر یا قومی اسمبلی کا رکن بننا ضروری ہے بصورت دیگر 6 ماہ بعد وہ کابینہ میں نہیں رہے گا۔ادھرپیپلزپارٹی کے وفاقی حکومت کے ساتھ اختلافات سامنے آنے لگے ہیں ۔ شہبازشریف کے وزیر اعظم بننے کے 9دن بعد وفاقی کابینہ نے حلف اْٹھالیا ہے تاہم بلاول زرداری نے وفاقی وزراکی تقریب حلف برداری میں شرکت کی لیکن حلف نہیں اْٹھایا۔وہ نوازشریف سے ملاقات کے لیے لندن چلے گئے ہیں۔نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابقذرائع کا بتانا ہے کہ پیپلزپارٹی صدر مملکت، چیئرمین سینیٹ اورگورنر پنجاب کے عہدے لینا چاہتی ہے۔ذرائع کے مطابق اختلافی معاملات پر وزیراعظم شہباز شریف نے ہاتھ اٹھا لیے ہیں اور بلاول کو نواز شریف سے براہ راست بات کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ بلاول زرداری لندن میں قائد ن لیگ میاں نواز شریف سے ملاقات کریں گے اوراختلافی معاملات پر بات کریں گے، بلاول بھٹو کا لندن سے واپسی پر وزیر خارجہ کا حلف اٹھانے کا امکان ہے جب کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزارت خارجہ کے معاملے پر ن لیگ سے کوئی ڈیڈ لاک نہیں، بلاول بھٹو اے این پی،بی این پی اور محسن داوڑ کو وزارت ملنے کے بعد حلف اٹھانا چاہتے ہیں۔اعلامیے کے مطابق بلاول بھٹو اتحادی حکومت کے قیام پر نواز شریف کو مبارک باد دینے جا رہے ہیں۔