ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

برطانوی ، وزیر اعظم کو اپنی پارٹی میں مخالفت کا سامنا

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو اپنی جماعت کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کے مشتعل ارکان کی جانب سے بورس جانسن پر استعفا دینے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ ادھر وزیراعظم نے استعفے کے مطالبات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے ایوان نمایندگان میں ایک بار لاک ڈاؤن کے دوران کورونا قوانین کی خلاف ورزی پر معافی مانگ لی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق وہ اقتدار میں رہتے ہوئے قانونی شکنی کے لیے جرمانہ ادا کرنے والے برطانیہ کے پہلے رہنما بن گئے ہیں۔ ان پر پارلیمان کو گمراہ کرنے کا الزام ہے ، کیوں کہ وہ اس بات پر اصرار کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے کوئی قانون نہیں توڑا۔ ایوان نمائندگان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں دل کی گہرائیوں سے معافی مانگتا ہوں، عوام کو اپنے وزیر اعظم سے بہتر ہونے کی توقع رکھنے کا پورا حق ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران کوئی اجتماع قانون شکنی کے مترادف ہوگا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے گزشتہ ہفتے وزیر اعظم بورس جانسن نے اس اسکینڈل میں جرمانہ ادا کیاتھا۔ان کے ساتھ وزیر خزانہ رشی سوناک پر بھی جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں