ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

کراچی دھماکہ، دہشتگرد تنظیم کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے ذمہ داری قبول کرلی

کراچی:  جامعہ  کراچی میں ہونے والے دھماکے کی دہشتگرد تنظیم کالعدم بلوچ لبریشن آرمی(بی ایل اے)کے مجید بریگیڈ نے ٹوئٹر پر  ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایک خاتون کی مدد سے یہ خودکش دھماکہ کیا گیا۔ یہ  خود کش حملہ بلوچ خاتون فدائی شاری بلوچ عرف برمش نے سرانجام دیا۔

رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ جامعہ کراچی میں واقع چینی انسٹی ٹیوٹ کے قریب  ایک وین میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں تین چینی شہریوں سمیت چار افراد ہلاک جبکہ ایک رینجرز اہلکار سمیت چار افراد زخمی ہوگئے۔دھماکے کے بعد ریسکیو، پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بڑی تعداد میں جامعہ کراچی پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر امدادی کارروائیاں شروع کردیں، دھماکے کے بعد وین میں آگ لگ گئی تھی جسے بعدازاں بجھا دیا گیا، جبکہ بم ڈسپوزل سکواڈ کو بھی طلب کیا گیا۔

انچارج کاونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)راجا عمر خطاب کا کہنا ہے کہ کراچی یونیورسٹی خود دھماکے کی ذمے داری علیحدگی پسند کالعدم تنظیم نے قبول کی ہے،کراچی یونیورسٹی دھماکے کے بعد میڈیا بریفنگ میں راجا عمر خطاب نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی میں خاتون خودکش بمبار نے دھماکا کیا،انہوں نے کہا کہ باقاعدہ ریکی کے بعد گاڑی کو ٹارگٹ کیا گیا، جس وین کو نشانہ بنایا گیا اس میں غیرملکی سوار تھے،انچارج سی ٹی ڈی نے کہا کہ وین کے آگے پیچھے رینجرز کے موٹرسائیکل سوار اہل سیکیورٹی پر تھے، دھماکا خیز مواد اسکول بیگ میں تھا،ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں استعمال کیا گیا بارودی مواد مقامی نہیں لگ رہا، دھماکا خیز مواد میں بال بیرنگ استعمال کیے گئے ہیں،راجا عمر خطاب نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی خود کش دھماکے کی ذمے داری علیحدگی پسند تنظیم نے قبول کی ہے۔

کراچی یونیورسٹی کی قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر ناصرہ خاتون نے بھی تصدیق کی کہ دھماکے میں جان سے جانے والے چینی شہریوں میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر اور دو خواتین اساتذہ شامل ہیں۔

ڈاکٹر ناصرہ خاتون نے مزید بتایا کہ جس وقت دھماکہ ہوا، گاڑی میں کل چھ چینی شہری سوار تھے، جن میں سے تین چینی جان سے گئے جبکہ ڈرائیور بھی واقعے میں چل بسا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں