اسلام آباد(بی بی سی رپورٹ)مسجد نبوی میں حکومتی وفد کیخلاف نعرے بازی پر متعدد پاکستانی گرفتار۔تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے شہر مدینہ کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ مسجدِ نبوی میں جمعرات کو پیش آنے والے واقعے کے تناظر میں پانچ پاکستانی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔سعودی پریس ایجنسی نے مدینہ پولیس کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ سکیورٹی حکام نے پاکستانی شہریت کے حامل پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے جنھوں نے پاکستانی شہریت کی حامل خاتون اور اس کے ساتھیوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ مسجد نبوی کے صحن میں موجود تھے۔ترجمان کے مطابق ان افراد کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی مکمل کی گئی اور معاملے کو مجاز حکام کو بھیج دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ جمعرات کی شام پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ان کے وفد میں وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب اور وزیرِ نارکوٹکس شاہ زین بگٹی کو مسجد نبوی کے صحن میں موجود پاکستانیوں کی جانب سے بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ان افراد نے پاکستانی وزرا اور ان کے ساتھیوں کو گھیرے میں لے کر نعرے بازی کی تھی اور جہاں مریم اورنگزیب کے لیے نازیبا زبان استعمال کی تھی وہیں شاہ زین بگٹی کے بال بھی کھینچے گئے تھے اور انھیں دھکے دیے گئے تھے۔جمعرات کی شب سے ہی یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے تاہم پاکستان میں موجود سعودی سفارتحانے نے جمعے کی شام ان اطلاعات کی تصدیق کی تھی کہ مدینہ منورہ میں نعرے بازی کرنے والے چند پاکستانیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔تاہم بی بی سی نے اس بارے میں سعودی عرب میں موجود پاکستانی سفارتخانے کے حکام سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی ایسی کسی خبر کی تصدیق نہیں کی گئی۔ جو بھی ہو گا وہ پہلے سعودی پریس ایجنسی پر آ جائے گا تب ہی اس کی تصدیق ہو سکے گی۔سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو یہ بھی بتایا کہ چند روز قبل بھی جدہ میں پاکستان تحریکِ انصاف کے حامیوں کی ایک احتجاجی نشست کے بعد بھی سات افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن کے خلاف قانونی کارروائی ہو رہی ہے۔یاد رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف 13 رکنی وفد کے ساتھ تین روزہ سرکاری دورے پر جمعرات کو مدینہ پہنچے تھے۔