ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ترکی میں روسی سیاحوں کو ادائیگی میں کوئی مسئلہ نہیں‘وزیر مالیات

استنبول:روسی سیاح ترکی میں ملکی کارڈ سے رقوم خرچ کرنے کے مجاز ہیں اور یہ ’میر‘ پے منٹ سسٹم کو وسعت بھی دے گا۔ ایسا کرنے سے ترک حکومت کا یہ فعل مغربی پابندیوں کو نظرانداز کرنے کے مساوی خیال کیا گیا ہے۔

ترکی اپنی سیاحتی شعبے کو فعال کرنے کی کوشش میں ہے اور اس کو ایک مرتبہ پھر کورونا وبا سے قبل کی سطح پر لانا چاہتا ہے۔

ترک کرنسی لیرا کی قدر میں مسلسل گراوٹ کے بعد اب ملکی معیشت کو کسی حد تک استحکام مل رہا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ ترکی کا بھاری انحصار روسی گیس، تجارت اور سیاحت پر ہے۔

ترکی روسی سیاحوں کی ایک من پسند منزل قرار دی جاتی ہے۔ترکی مغربی دفاعی اتحاد کا رکن ہے لیکن اس نے روس پر عائد پابندیوں کو تسلیم نہیں کیا اور اس کا حصہ بھی نہیں بنا۔ اس کی ایک بڑی وجہ ترک روسی تعلقات میں پائی جانے والی گہرائی ہے۔

یوکرین پر روسی حملے کے باوجود انقرہ اور ماسکو کے درمیان پرجوش روابط موجود ہیں۔ ان دوستانہ روابط کے باوجود ترکی میں قائم صدر رجب طیب ایردوآن حکومت نے بھاری افراطِ زر کی وجہ سے اناج اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

ترک معاشی مبصرین کے مطابق سیاحتی صنعت کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے فرق کو کم کرنے کے لیے اہم ہے۔ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ کارڈز سے ادائیگی ممکن نہیں رہی اور اب ترکی نے اس کا متبادل تلاش کیا ہے۔

امریکا کے کارڈ سے ادائیگی کرنے والے بڑے اداروں ماسٹر کارڈ اور ویزا نے روس میں امریکی پابندیوں کے نفاذ کے بعد اپنے آپریشن معطل کر دیے ہیں۔ ترکی نے روسی سیاحوں کو ترکی کی سیاحت کے دوران ویزا اور ماسٹر کارڈ کے متبادل کے طور پر روس کے ادائیگیوں کے نظام میر کو استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔

میر سسٹم کے تحت ادائیگی کے حوالے سے ترکی کے وزیر مالیات و خزانہ نور الدین نیباطی کا بھی بیان سامنے آیا ہے اور اس میں کہا گیا کہ روسی سیاحوں کو اپنا ملکی پے منٹ کارڈ استعمال کرنے میں پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔

روسی پے منٹ نظام کے دو کارڈ میر اور ٹرائے ہیں۔ ٹرائے صرف ملک کے اندر اور میر کارڈ کسی بھی جگہ استعمال ہو سکتا ہے اور حالیہ ایام میں اس کارڈ کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔روس نے سن 2014 میں اپنا ادائیگیوں کے نظام کو متعارف کرایا تھا اور اس کا نام میر رکھا گیا۔

روسی زبان میں میر کے معنی امن ہیں۔ کریمیا کے روس میں ضم کرنے کے دوران روسی کاروباری حضرات نے اس کا استعمال شروع کیا تھا۔ رفتہ رفتہ میر کارڈ کئی غیر ممالک میں متعارف کرایا گیا۔

اس وقت یہ کارڈ کم از کم بارہ ممالک میں قبول کیا جاتا ہے۔ ان ملکوں میں آرمینیا، کرغیزستان، ازبکستان، تاجکستان، جنوبی اوسیتیا، ابخازیہ، قزاقستان، بیلاروس، قبرص، ترکی اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ ترکی میں اس کارڈ سے ادائیگی کی ذمہ داری ترکی کے زراعت بینک اور وقف بینک نے سنبھال رکھی ہے۔

سن 2021 کے اختتام تک میر کارڈ ایک سو تیرہ ملین سے زائد افراد کے زیرِ استعمال بتایا گیا ہے۔اس کارڈ کے علاوہ روسی سیاحوں کے پاس ترکی میں ادائیگی کا کوئی اور نظام موجود نہیں ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ روس کی یوکرین پر چوبیس فروری کو کی جانے والی چڑھائی کے بعد ہزاروں روسی شہری ترکی پہنچ چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ان روسیوں نے ترکی کو مغربی پابندیوں سے بچنے کا محفوظ مقام تصور کر رکھا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں