سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر عہدے سے فارغ ہونے کے بعد بھی سرکاری گاڑی استعمال کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر ایکسائز کا ریکارڈ سامنے آ گیا ہے جس کے مطابق ان کے پاس سرکاری گاڑی موجود ہے۔
صحافی حسن ایوب خان نے اسد قیصر کے جھوٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کمال دلیری سے جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ آج جب ان سے سوال کیا گیا کہ گاڑی سرکاری ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں میری اپنی ہے۔ ایکسائز کا ریکارڈ بطور ثبوت ٹویٹ کر رہا ہوں۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر عہدے سے فارغ ہونے کے بعد بھی سرکاری گاڑی استعمال کر رہے ہیں۔ pic.twitter.com/hSoWUPisJQ
— NayaDaur Urdu (@nayadaurpk_urdu) May 13, 2022
خیال رہے کہ اسد قیصر نے 9 اپریل کو تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کے بجائے خود استعفیٰ دیا تھا۔ لیکن وہ آج بھی سرکاری گاڑی میں ہی سیر سپاٹے کر رہے ہیں اور پریس کانفرنس کے لئے بھی اسے میں آئے تھے۔ ایکسائز حکام کا کہنا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق اسد قیصر کے زیر استعمال گاڑی کابینہ ڈویژن کی ملکیت ہے۔
دوسری جانب اپنی پریس کانفرنس میں اسد قیصر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ میں نے غیر ملکی خط خود پڑھا تھا۔ اسے پڑھنے کے بعد اس بات سے اتفاق کیا کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہوئی۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کمال دلیری سے جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ آج جب ان سے سوال کیا گیا کہ گاڑی سرکاری ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں میری اپنی ہے ،،ایکسائیز کا ریکارڈ بطور ثبوت ٹویٹ کر رہا ہوں جبکہ انکے جواب کے گواہ @Matiullahjan919 @imranshehri اور @Babar_A_Abbasi ہیں۔ pic.twitter.com/IG8Xjyj5Gl
— Hassan Ayub Khan (@HassanAyub82) May 13, 2022
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ شہباز شریف کو دعوت دی کہ مراسلہ دیکھیں لیکن انہوں نے نہیں دیکھا۔
سابق اسپیکر نے بتایا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے سازش کی تائید کی، کسی ملک سے کوئی دشمنی نہیں، بین الاقوامی ضوابط پر عمل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عدلیہ اور عدالت عظمیٰ پر مکمل اعتبار ہے، میری طرف سے ڈپٹی اسپیکر رولنگ کے خلاف نظر ثانی اپیل سپریم کورٹ میں دائر ہو چکی ہے۔
اسد قیصر نے سوال کیا کہ کیا آرٹیکل 95 آرٹیکل 65 سے بالا ہے؟ سپریم کورٹ پوائنٹ آف آرڈر پیش ہونے پر اعتراض کر سکتی ہے؟ ہمیں بار بار سلیکٹڈ حکومت کہا جاتا تھا جو سراسر جھوٹ ہے۔