ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ملک میں معاشی عدم استحکام جاری،ڈالر 196 روپے سے متجاوز،سونا 700 روپے مہنگا،اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کا شکار

کراچی (بزنس رپورٹر/مانیٹرنگ ڈیسک) ملک میں معاشی عدم استحکام جاری ہے‘ 10 ماہ میں تجارتی خسارہ 65 فیصد بڑھ کر 39.3 ارب ڈالر تک پہنچنے، اپریل 2022ء میں خام تیل کا درآمدی بل 72 فیصد تک بڑھنے سمیت ملک کو درپیش بدترین معاشی چیلنجز کے باعث ڈالر 196روپے سے تجاوز کرگیا‘ سونا مزید 700 روپے مہنگا ہوگیا جبکہ اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کا شکار رہی۔ تفصیلات کے مطابق پیر کو پاکستان میں ڈالرکی اونچی اڑان جاری رہی جس کی وجہ سے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستانی روپیہ ڈالر کے سامنے بدترین گراوٹ کا شکار رہا‘ انٹر بینک میں ڈالر 194 روپے اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر195روپے کی سطح سے تجاوز کر گیا۔ فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے ڈالر 1.60روپے مزید مہنگا ہو گیا جس کے بعد ڈالر کی قیمت خرید 192.50روپے سے بڑھ کر 194.50 روپے اور قیمت فروخت 193روپے سے بڑھ کر 194.60 روپے ہوگئی‘ اسی طرح مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 1.80روپے کا اضافہ ہوا جس کے بعد ڈالر کی قیمت خرید 193.50روپے سے بڑھ کر 194.50روپے اور قیمت فروخت 194.50 روپے سے بڑھ کر196.50روپے پر جا پہنچی۔ پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ آل پاکستان سپریم کونسل جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت میںمزید700 روپے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس کی قیمت ایک لاکھ 36 ہزار 600 روپے ہوگئی ہے تاہم عالمی صرافہ بازار میں سونے کی قدرمیں14 ڈالرکی کمی ہوئی جو گھٹ کر 1799 ڈالر فی اونس رہ گئی۔ علاوہ ازیں پاکستان اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کے بعد 43 ہزار کی نفسیاتی حد بھی کھوگئی۔ 10 ماہ میں تجارتی خسارہ 65 فیصد بڑھ کر 39.3 ارب ڈالر تک پہنچنے، اپریل 2022ء میں خام تیل کا درآمدی بل 72 فیصد بڑھنے سمیت ملک کو درپیش بدترین معاشی چیلنجز سے خوف زدہ سرمایہ کاروں کی جانب سے دھڑا دھڑ حصص کی فروخت اور غیر یقینی سیاسی صورتحال کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو بھی مندی کا تسلسل برقرار رہا۔ 77.35 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید ایک کھرب23 ارب 17 کروڑ 72 لاکھ 29 ہزار 222 روپے ڈوب گئے۔ ایک موقع پر مندی کی شدت 1113 پوائنٹس کی کمی تک پہنچ گئی تھی تاہم اختتامی لمحات میں کم قیمتوں پر حصص کی خریداری بڑھنے سے مندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی۔ نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 819.14 پوائنٹس کی کمی سے 42667.32 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ تجارتی خسارہ 65 فیصد، خام تیل کا درآمدی بل 72 بڑھنے اور آئی ایم ایفپروگرام کی عدم بحالی کے خدشات سے روپیہ بے قدر ہوا ہے اور اسٹاک ایکس چینج مندی کا شکار ہے‘ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر گھٹ کر 3 ماہ کے بجائے صرف ڈیڑھ ماہ کی درآمدات کے لیے محدود ہونے جیسے عوامل بھی مارکیٹ میں گھبراہٹ کی فضا پیدا کیے ہوئے ہیں‘ سرمایہ کار سرمائے کے انخلا کو ترجیح دے رہے ہیں جو کیپٹل مارکیٹ کی تنزلی کا باعث بن رہی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں