ویب ڈیسک —
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی حکومت کے مستقبل سے متعلق جہاں قیاس آرائیاں جاری ہیں وہیں پنجاب میں ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کی حکومت بھی گومگوں کی کیفیت سے دوچار ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے جمعے کو وزیرِاعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے حلف کے خلاف اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ اور پی ٹی آئی کی درخواستوں پر انہیں نوٹس جاری کر دیا ہے جب کہ الیکشن کمیشن بھی جمعے کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 25 منحرف ارکان کے خلاف ریفرنس کا فیصلہ سنائے گا۔
پی ٹی آئی کے منحرف ارکان نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں شہباز شریف کے حق میں ووٹ دیا تھا جس کے خلاف تحریک انصاف نے منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجا تھا۔
الیکشن کمیشن کے پاس منحرف ارکانِ اسمبلی سے متعلق پی ٹی آئی کے ریفرنس پر فیصلہ سنانے کے لیے آج آخری دن ہے کیوں کہ کمیشن ریفرنس پر 30 روز کے اندر فیصلہ سنانے کا پابند ہے۔
الیکشن کمیشن نے 17مئی کو پی ٹی آئی کے ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
دوسری جانب اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی اور پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا انتخاب ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس امیر بھٹی نے سماعت کی۔
پرویز الٰہی کی جانب درخواست میں حمزہ شہباز اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے جب کہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حمزہ شہباز نے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے لیے مطلوبہ ووٹ نہیں لیے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حمزہ شہباز کے پاس اسمبلی میں مطلوبہ نمبرز نہیں ہیں۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہےکہ درخواست کے حتمی فیصلے تک حمزہ شہباز کو بطور وزیر اعلیٰ کام سے روکا جائے اور ان کے حلف کو کالعدم قرار دے کر نئے الیکشن کرانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
جمعے کو سماعت کے دوران تحریکِ انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کر دی ہے کہ منحرف ارکان کا ووٹ شمار نہیں ہوگا۔ حمزہ شہباز کو پی ٹی آئی کے منحرف ارکان نے ووٹ دیا تھا اس لیے اعلیٰ عدالت کے فیصلے کے بعد حمزہ شہباز وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر رہنے کا جواز کھو چکے ہیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کب سے لاگو ہوگی؟ دیکھنا یہ ہے کہ جو اقدامات ہو گئے کیا وہ بھی کالعدم ہو سکتے ہیں؟
عدالت نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کے خلاف درخواستیں منظور کرتے ہوئے کیوں نہ مخالف فریق سے جواب لے لیں۔ بعد ازاں عدالت نے حمزہ شہباز سمیت فریقین کو 25 مئی کے لیے نوٹسز جاری کردیے۔