کراچی(اسٹاف رپورٹر)سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک وزیراعظم نے ڈکٹیشن لینے سے انکار کیا اور ڈکٹیشن نہ لینا ہی عمران خان کے گلے پڑ گیا۔سابق ماہر معاشیات مزمل اسلم کے ہمراہ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت ایک تسلسل کا نام ہے، یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ ہر 2 سال بعد حکومت کو چلتا کردیا جائے، 5 سال مکمل ملنے چاہیے، اگر اس کو درمیان میں چھیڑا جائے گا تو ردعمل ضرور آئے گا، عمران خان کو زبردستی ہٹایا گیا، سیاست میں پولرائزیشن ضرور کم کرنی چاہیے لیکن مقتدر حلقوں کو بھی چاہیے کہ حکومتوں کو 5 سال مکمل کرنے دیں۔انہوں نے کہاکہ مجھے موجودہ حکومت کی مدد کے لیے کہا گیا، میں کیوں ان کی مدد کروں جنہوں نے ہمیں باہر نکالا؟آئی ایم ایف موجودہ حکومت پر اعتبار نہیں کر رہا، اس لیے یہ اب ہم سے بھی مدد مانگ رہے ہیں۔شوکت ترین کے بقول موجودہ معاشی صورتحال کا ایک ہی حل ہے کہ ایک مضبوط عبوری حکومت لائی جائے اور الیکشن کرائیں، عبوری حکومت ہوگی تو ہم بھی اس کی مدد کریں گے۔ سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ فون کال کا انتظار کرنے والے کہاں کے سیاستدان بن گئے،ہماری کارکردگی موجودہ حکومت سے بہتر تھی، ہم روپے اور ڈالر کے معاملے میں ان سے بہتر رہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستانی روپے کے مطابق 25 روپے فی لیٹر پیٹرول کی قیمت بھی کم کردی ہے مگر ہم امریکا کو ناراض کرنے کی جرات نہیں کر پارہے۔ شوکت ترین نے مزید کہا کہ 6 ہفتوں میں پرائس کنٹرول کا ایک بھی اجلاس نہیں ہوا، لوگوں کو بھی پتا ہے کہ اوپر کوئی بیٹھا نہیں ہے اس لیے وہ موج کر رہے ہیں اور اپنی مرضی سے قیمتیں وصول کر رہے ہیں ۔