ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

زبردستی گھر میں داخل ہونے پر پولیس کانسٹیبل کو ڈاکو سمجھ کر فائرکیا گیا، فواد چوہدری

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ لاہورمیں زبردستی داخل ہونے پر پولیس کو ڈاکو سمجھ کر فائرکیا گیا ، پولیس اہل کار کی موت سمیت تمام واقعات کے ذمہ دار حمزہ اور رانا ثناءاللہ ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ پنجاب میں رات گئے گیارہ سو گھروں پر چھاپے مارے گئے ، بغیر وارنٹ گھروں میں داخل ہو کر پولیس نے خواتین حتیٰ کہ بچوں سے بدتمیزی کی ، لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا 400 سے زائد کارکن حراست میں لیے گئے ان میں خواتین بھی شامل ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ایکس سروس مین اور سول اداروں سے ریٹائرڈ لوگ بھی پولیس گردی کا نشانہ بنے۔

فواد چوہدری نے پی ٹی آئی عہدیدار کی جانب سے پولیس کانسٹیبل کو گولی مارے جانے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائرڈ میجر کےگھر میں آدھی رات کو زبردستی داخل ہونے پر گھر والوں نے ڈاکو سمجھ کر فائر کردیا اور پولیس اہل کار جان کی بازی ہارگیا ان تمام واقعات کے ذمہ دارحمزہ اور رانا ثنااللہ ہیں۔

خیال رہے کہ صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن میں پاکستان تحریک انصاف کے خلاف پولیس کے کریک ڈاؤن کے دوران فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار جاں بحق ہوگیا ، کانسٹیبل کمال احمد کو ماڈل ٹاؤن میں تعینات کیا گیا تھا اس دوران ماڈل ٹاون سی بلاک 112 میں پی ٹی آئی کے مقامی رہنماء ساجد بخاری کے گھر کریک ڈاؤن کیا گیا، کریک ڈاؤن کے دروان چھت سے فائر کیا گیا ، کانسٹیبل کمال احمد کو سینے پر گولی لگی ، زخمی کانسٹیبل کو طبی امداد کے لیے لاہور جنرل ہستپال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں