پاکستانی معیشت کے بہتر ہونے کے بالاخر آثار نمایاں ہو گئے ہیں کیونکہ دیرینہ دوست ملک سعودی عرب نے پاکستان کو 3 بلین ڈالر کی بھاری رقم دینے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، اس سلسلے میں تیاریاں شروع کر دی گئی ہے۔
یہ بات سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ڈیووس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے 3 بلین ڈالر دینے کا فیصلہ کر لیا گیا جو جلد ہی پاکستان کے مرکزی بینک میں ڈیپازٹ کرا دیے جائیں گے۔ ہم اس معاملے کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔
Saudi Arabia is finalizing the extension of $3 billion deposit to Pakistan, Saudi Minister of Finance Mohammed Al-Jadaan told Reuters. “We are currently finalizing extending the $3 billion deposit to Pakistan,” he said on the sidelines of the World Economic Forum in Davos.
— Syed Talat Hussain (@TalatHussain12) May 24, 2022
سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کیلئے ڈیپازٹس، ادھار تیل پر 4 ارب 20 کروڑ ڈالر کی سعودی سہولت پہلے سے جاری ہے۔ اس میں3 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس جبکہ 1.2 ارب ڈالر تیل کی سہولت شامل ہے۔ نئی حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کا حجم 6 سے بڑھا کر 8 ارب ڈالر کی پہلے ہی درخواست کی ہے جبکہ چین ، قطر ،یواےای سے بھی مالی امداد کیلئے درخواست پر غور کر رہی ہے۔
سعودی عرب نے آخری معاہدے کے تحت دسمبر 2021 میں سٹیٹ بینک آف پاکستان میں تین ارب ڈالر جمع کروائے تھے۔ گذشتہ سال اکتوبر میں سعودی عرب نے پاکستان کو 4.2 ارب ڈالر کی مالی امداد دی تھی۔ اس مدد کا اعلان اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے دوران کیا گیا تھا۔ یہ مدد سستے قرضوں اور ادھار تیل کی صورت میں تھی۔