پشاور (آن لائن )اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی لانگ مارچ خون خرابے کے خوف سے ختم کیا، عمران خان۔تفصیلات کے مطابقچیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے کسی ڈیل کے تحت آزادی مارچ ختم کرنے کی خبروں کی ترید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری کسی سے ڈیل ہوئی اور نہ کمزوری تھی اگر میں دھرنا دے کربیٹھ جاتا تو خون خرابہ ہونا تھا ، نئے انتخابات کا اعلان نہیں ہوا تو پوری تیاری کے ساتھ دوبارہ نکلیں گے۔جمعہ کو پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ، یہ کہا جارہا تھا کہ ہم انتشار کرنے کے لیے جا رہے ہیں، کیا کوئی اپنے بچوں اور عورتوں کو لے کر انتشار کرنے جاتا ہے۔انہوں کا کہنا تھا کہ اگر مجھے اپنی قوم کا خیال نہ ہوتا اور میں وہاں بیٹھ جاتا تو بہت خون خرابہ ہونا تھا، نفرتیں بڑھنی تھیں لیکن پولیس بھی ہماری ہے اس لیے ہم نے اپنے ملک کی خاطر فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ مردان میں سب سے پہلے شہید کارکن کے گھر گیا، دوسرے کارکن فیصل عباس لاہور میں شہید ہوئے ہیں ان کے گھر پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنما گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں کے لیے ایک ایک کروڑ روپے پارٹی کی طرف سے اکٹھا کریں گے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کی ہر جمہوریت میں آپ کو پْرامن احتجاج کا حق ہوتا ہے، احتجاج کا حق بھی نہ دیا جائے۔ رات کو گھروں پر حملے کیے گیے، پنجاب پولیس نے عورتوں اور بچوں کو بھی نہیں دیکھا، جس طرح وہ گھروں میں گھسے، ہم عدالت کے پاس گئے اس کے بعد سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا کہ پولیس کو یہ نہیں کرنا چاہیے تھا اور رکاوٹیں ہٹا دیں۔چیئرمین تحریک انصاف نے مزید کہا کہ اس فیصلے کے بعد ہم سمجھے کہ رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گی اور پولیس کی کارروائی نہیں ہوگی اس کے بعد جو ہوا ہم اس کی توقع نہیں کررہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ فیصل عباس کو تو پولیس کی جانب سے نیچے پھینکا گیا۔ اسی طرح جو کچھ بہنوں، بیٹیوں، وکیلوں سے کیا گیا۔ لاہور میں پولیس نے بس میں جو وکلا جارہے تھے انہیں جس طرح نکال نکال کر مارا۔ پوری قوم کے سامنے یہ ظلم ہوا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کو استعمال کیا گیا، پنجاب پولیس میں بہت اچھے اچھے افسران موجود ہیں لیکن موجودہ حکومت نے چن چن کر ایسے افسران کو تعینات کیا اور پھر ان سے ظلم کروایا۔ اسلام آباد کے آ ئی جی کو سیف سٹی پروجیکٹ میں سزا ہونے والی تھی، شہباز شریف اس کو واپس لے کر آئے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا ہے جس میں پوچھا ہے کہ کیا ہمیں احتجاج کرنے کا حق ہے کہ نہیں وہ بھی ان چوروں کے خلاف اسمبلیوں میں اس وقت ہونے والا ڈرامہ غیر قانونی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں عدلیہ سے سوال کرتا ہوں کہ کیا ہم بھیڑ بکریوں کی طرح حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو مان لیں ؟ اس طرح ملک میں انتشار پھیلے گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ، شہباز شریف، حمزہ شریف، یزید کے ماننے والے لوگ ہیں،سانحہماڈل ٹاؤن میں چودہ افراد کو قتل کے باوجود انہیں سزا نہیں ملی، اگر مل جاتی تو یہ لوگ اس طرح کا ظلم نہ کرپاتے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قوم غور سے سنے اگر مجھے ملک کی قوم کی فکر نہ ہوتی اور میرے بھی باہر پیسے اور جائدادیں ہوتیں تو شاید مجھے بھی اپنے ملک کی فکر نہ ہوتی۔ اس رات کو خون خرابہ ہونے لگا تھا، ہمارے لوگ تیار ہوگئے تھے کیونکہ انہوں نے پولیس کی جانب سے دہشت گردی دیکھی۔ ہمارے لوگ انتہائی غصے میں تھے جنہوں نے یہ تماشے دیکھے۔ اگر اس دن میں وہاں بیٹھ جاتا تو گارنٹی دیتا ہوں کہ خون خرابہ ہوجاتا۔ پولیس کے خلاف نفرتیں بڑھ چکی تھیں اس میں مزید اضافہ ہوتا۔ پولیس بھی اپنی ہے عام پولیس کا قصور نہیں ہے۔عمران خان نے کہا کہ میں یہ واضح کردوں کہ اگر کسی کو خوش فہمی ہے کہ ہم اب ان سے آرام سے مذاکرات کریں گے، یا اس امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرلیں گے، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔ میں اس کو جہاد سمجھتا ہوں، جب تک زندہ ہوں اس کے سامنے کھڑا رہوں گا۔ عمران خان نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے دبائو میں آ کر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے کا اضافہ کر دیا اتنا بڑا اضافہ کبھی بھی نہیں ہوا تھا، بیرونی طاقتیں چاہتی ہی نہیں کہ پاکستان اپنے قدموں پر کھڑا ہو حالانکہ ہم پر بھی آئی ایم ایف کا دبائو تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت تو بیرونی دبا ئو برداشت ہی نہیں کر سکتی اور اب پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مزید مہنگائی بڑھے گی اور ملک میں بے امنی پھیلے گی اور قوم میں ملک سے بددلی پھیلے گی یہ ہمیں بھی سری لنکا جیسے صورتحال کی طرف دھکیل رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں اگر جون تک الیکشن کا اعلان کر دیں ہم لڑائی نہیں چاہتے، مذاکرات کے لیے دروازے کھلے ہیں، مذاکرات سے الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ ہوا تو دوسرا راستہ احتجاج ہے۔سب سے بہترین راستہ یہ ہے کہ مذاکرات کے ذریعے اسمبلیاں تحلیل ہوں اور الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا جائے۔