ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بھارتی عدالتیں کشمیری قیادت اور عوام کو سزائیں سنانے کی مجاز نہیں ،جماعت اسلامی

مظفر آباد /راولپنڈی(اسٹاف رپورٹر/نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی آزادجموں وکشمیر کے قائمقام امیر شیخ عقیل الرحمان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ہندوستان کی عدالتوں میں دہشت گرد آر ایس ایس کے جج بیٹھے ہیں ان سے انصاف کی کسی کو توقع نہیں ،ہندوستان کی عدالتیں اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری حریت پسندوں کو سزائیں سنانے کی مجاز نہیں ہیں،کشمیری اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جائز جدوجہد کررہے ہیں ،یاسین ملک کو سنائی جانے والی سزا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے ،ان خیالات کااظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی قیادت دوہرے معیار پر عمل پیرا ہے گاندھی ہندوستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کرے وہ ہیرواور یاسین ملک کشمیرکی آزادی کی جدوجہد پر قابل سزا قرار پائے یاسین ملک کشمیریوں کے ہیرو وہ آزادی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں ان کو دی جانے والی سزا کشمیری قبول نہیں کرتے ،انہوں نے کہاکہ او آئی سی کے رکن ممالک ہندوستان کے ساتھ سیاسی،معاشی اور سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کریں حکومت پاکستان ہندوستان کے ساتھ تمام معاہدے منسوخ اور تعلقات ختم کرے ۔جماعت اسلامی آزادجموں وکشمیر کے سابق امیر سردار اعجاز افضل خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ کشمیر کی قیادت اور عوام کو جعلی مقدمات میں سزائیں سنانے کی ہندوستانی عدالتیں مجاز نہیں ہیں،یاسین ملک کو جعلی مقدمات میں دی جانی والی سزا اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے،اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کشمیریوں کو بھارتی فوجی قبضہ چھڑانے کے لیے عسکری مزاحمت کا حق حاصل ہے،اگر عسکری مزاحمت کا حق اقوام متحدہ کا چارٹر کشمیریوں کو فراہم کرتا ہے تو ہندوستان کی عدالت اپنے حق کے لیے جمہوری انداز سے جدوجہد کرنے والوں کو سزائیں کیسے سنا سکتی ہے،ہندوستان کی عدالتیں عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہی ہیں عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے،ان خیالات کااظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے جس کا فیصلہ رائے شماری کے ذریعے ہونا باقی ہے فوجی قبضے کے خلاف مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اقوا م متحدہ کا چارٹر مزاحمت کا حق دیتا ہے،کشمیر کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی موجود ہیں جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کشمیری آزادانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے،کشمیریوں کو قبضہ ختم کرانے کے لیے عسکری جدوجہد کا حق حاصل ہے جمہوری جدوجہد پر سزائیں عدالتی قتل ہے،یاسین ملک سمیت قائدین حریت اور ہزاروں اسیران کی رہائی کے لیے عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مداخلت کرتے ہوئے ہندوستان کو کشمیریوں کے قتل عام سے باز رکھے اور اپنے عہد کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دلائے تا کہ کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں کشمیری ہندوستان کی عدالتوں کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے فیصلوں کو مانتے ہیں کشمیر متنازع علاقہ ہے جب تک اس کا فیصلہ نہیں ہو جاتا کشمیریوں کو آزادی کے لیے جدوجہد کرنے کی پاداش میں مجرم قرارنہیں دیا جاسکتا بیس کیمپ اور پاکستان کی حکومت کشمیریوں کی زندگیوں کو بچانے کے جارحانہ سفارتی مہم منظم کرے کشمیرکی آزادی کے لیے عملی اقدامات کرے پاکستان مسئلہ کشمیر کا وکیل اور فریق ہونے کے ناطے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں