پاکستان تحریک انصاف کے آزادی مارچ کی ناکامی کی وجوہات سامنے آگئیں۔ رات کی تاریکی میں وزراء اور ارکان اسمبلی عمران خان کو تنہا چھوڑ کے فرار ہو گئے، صر ف وزیراعلی محمود حان کنٹنر پر موجود رہے۔ عمران خان نے غائب ارکان کے خلاف سخت کاروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
20سے زائد وزراء اور ایم پی ایزدن بھر کی تھکان دور کرنے کیلئے پختونخوا ہاؤس چلے گئے تھے۔ حقیقی آزادی مارچ سے غائب ہونے والوں میں شوکت یوسفزئی، کامران بنگش شامل
پشاور۔ طفیل انجم، ریاض خان، عارف احمد زئی، شفیع اللہ، ہمایون خان، فضل شکور، ابراہیم خٹک، اقبال وزیر، امجد علی، تاج محمد ترند، خلیق الرحمن، بابر سلیم سواتی، محب اللہ، ڈاکٹر امجد،عائشہ بانو اور ساجدہ بھی پختونخوا ہاؤس چلی گئی تھیں۔
اسی طرح پیر مصور غازی، مشتاق غنی، ظہور، سید فخر جہاں رات گزارنے اپنے رشتہ داروں کے ہاں چلے گئے۔ وزراء اور ایم پی ایز کی پختونخوا ہاؤس آمد کی سی سی ٹی وی فوٹیج عمران خان کو فراہم کر دی گئی ہے۔
ارکان اسمبلی کی پختونخوا ہاؤس داخل ہونے اور قیام کرنے کی تفصیل پارٹی سربراہ کو دے دی گئی ہیں۔
ارکان اسمبلی کی کثیر تعداد مارچ سے غائب ہونے پر عمران خان برہم ہوئے ہیں۔ آزادی مارچ سے غائب وزراء سے وزارتیں لینے کا امکان ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں شوکاز نوٹس دیا جائے گا اور آئندہ کیلئے ان ایم پی ایز کو ٹکٹ نہ دینے پربھی غور کیا جائے گا۔