ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سندھ پولیس نے حکومت کے کہنے پر غیر قانونی اقدامات اٹھائے ہیں ،حلیم عادل شیخ

اسلام آباد:آزادی مارچ کے دوران سندھ پولیس کی جانب سے سندھ میں پی ٹی آئی رہنمائوں و کارکنوں کے گھروں پر چھاپے، گرفتاریوں اور تشدد کے واقعات کا معاملہ پر قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ سینیٹ آف پاکستان پہنچے۔

حلیم عادل شیخ نے سندھ میں پولیس گردی کے خلاف چیئرمین اسٹیڈنگ کمیٹی فار انٹیریئر کو تفصیلی درخواست جمع کرائی حلیم عادل شیخ نے درخواست میں پولیس کی جانب سے کی جانے والی دہشتگردی کی نشاندہی کی گئی حلیم عادل شیخ نے درخواست کے ساتھ پولیس گردی کی وڈیوز اور تصاویر بھی جمع کرائی۔

حلیم عادل شیخ نے تفصیلی درخواست میں استدعا کرتے ہوئے کہا سندھ میں ہمارے پارلیامینٹرین و کارکنوں کو بدترین تشدد کا نشانا بنایا گیا پولیس نے بغیر وارنٹ کے گھروں میں گھس کر چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا سندھ پولیس نے وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے کہنے پر غیر قانونی اقدامات اٹھائے سپریم کورٹ کے احکامات کے باجود پی ٹی آئی کے لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے سندھ پولیس سیاسی آلہ کار بن کر اپنا کردار ادا کیا۔

سادہ لباس سیاسی لوگوں کو بھی پولیس کا حصہ بنا کر کارکنوں پر تشدد کروایا گیا، نمائش چورنگی پر بدترین شیلنگ کی گئی جس سے کئی کارکن زخمی ہوئے پی ٹی آئی رہنمائوں و کارکنوں پر دہشتگردی کے مقدمات بنائے گئے حیدرآباد، میرپورخاص، سانگھڑ، عمرکوٹ، شہید بینظرآباد سمیت کئی شہروں میں کارکنوں کوگرفتار کیا گیا۔

حلیم عادل شیخ نے مزید کہا مجھ پر بھی دو ایف آئی آر دہشتگردی کی دفعات کے ساتھ درج کی گئیں بغیر اسپیکر کی اجازت اور بغیر وارنٹ کے پولیس نے اراکین کے گھروں پر چھاپے مارے ہمارے تو ایم این اے ایک ایم پی اے کو جیل بھیجا گیا۔

سندھ بھر میں پرامن آزادی مارچ کے شرکا کو سندھ پولیس نے بدترین کا نشانہ بنایا، پی ٹی آئی کے کارکنوں کو آزادی مارچ سے روکنے کے لئے جھوٹے دہشتگردی کے مقدمات بنائے گئے حلیم عادل شیخ نے چیئرمین اسٹنڈنگ کمیٹی سینٹ آف پاکستان سے استدعا کرتے ہوئے کہا آئی جی سندھ، ڈی آئی جی کراچی سمیت تمام پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں