اسلام آباد: ملک میں مئی کے دوران مہنگائی کی شرح تقریبا ڈھائی سال کی بلند ترین سطح پر 13.76 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق نقل و حمل اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اپریل میں مہنگائی کی شرح 13.37 ہوگئی تھی جس میں مئی کے دوران ماہانہ بنیادوں پر 0.44 فیصد مزید اضافہ ہوا۔
۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ افراط زر میں اضافے کا بنیادی سبب اشیا کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافہ اور شرح مبادلہ میں نمایاں کمی تھی۔درحقیقت ڈالر اور پاکستان کے اہم تجارتی شراکت داروں کی کرنسیوں کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی بنیادی طور پر ملک اور اس کے شراکت داروں کے درمیان افراط زر کے فرق کی عکاسی کرتی ہے۔
مزید برآں نسبتا بلند مقامی افراطِ زر میں روپے کی قدر کی کمی نے مزید اضافہ کیا۔مزید یہ کہ نسبتاً زیادہ گھریلو افراط زر کی تلافی روپے کی قدر میں کمی سے ہوتی ہے۔ تاہم، کرنسی کی قدر میں کمی خود مقامی افراط زر میں اضافہ کرتی ہے۔ اس لحاظ سے، پاکستان ایک شیطانی افراط زر/کرنسی کی قدر میں کمی کی لپیٹ میں ہے۔