لاہور: مرکزی رہنما جماعت اسلامی حافظ محمد ادریس نے کہا ہے کہ قرآن سنت کا نظام ہی انسانیت کے دکھوں کا مداوا ہے۔ سودی اور سرمایہ دارانہ نظام نے لوگوں کو بھوک اور غلامی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ آئی ایم ایف سودی قرضوں کے ذریعے مقروض ملکوں سے اپنے ناجائزمطالبات منوانے کے لیے عوام پر طرح طرح کے ٹیکسوں کی بھرمار کراتا ہے۔
ہمارے حکمران بھی آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ پٹرول، ڈیزل، بجلی اور اشیا خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے غریب کا جینا مشکل کر دیا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔حافظ ادریس نے کہا کہ حکمران غربت نہیں بلکہ غریب مکاﺅ پالیسی پر گامزن ہیں۔
حکمران اشرافیہ عوام پر مہنگائی کے کوڑے برسارہی ہے ان حالات میں غریب کو چولھا جلانا مشکل ہو گیا ہے۔ حکومت پسے ہوئے طبقے کی چیخوں اور بددعاﺅں سے ڈریں۔ انھوں نے کہا کہ حکمران اسرائیل سے پینگیں نہ بڑھائیں، اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور اسے کبھی تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ صیہونی طاقت فلسطینیوں پر ظلم و ستم بند کرے۔
اسرائیل مسلم ممالک کے وسط میں بیٹھ کر فلسطینیوں پر ظلم اور قبلہ اول پر قبضہ جمائے بیٹھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت ریاستی ظلم و جبر کے ذریعے کشمیر پر قابض ہے۔ بھارت کشمیریوں پر طاقت اور تشدد کے ذریعے ان پر حکمرانی کر رہا ہے۔ کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد ان کا حق ہے۔