وزیراعظم شہباز شریف کے نوٹس کے بعد بھی ملک بھر میں جاری بجلی کے بحران میں کمی نہ آسکی۔
وزیراعظم نے زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے لوڈشیڈنگ کا اعلان کیا لیکن بارہ بارہ گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے
۔ اسلام باد بھی اب محفوظ نہیں رہا بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ عروج پر پہنچ گئی۔
ذرائع این ٹی ڈی سی کے مطابق بجلی کی رسد بمشکل 20 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ طلب 27 ہزار 300 میگاواٹ ہے۔
ذرائع این ٹی ڈی سی نے بتایا کہ7 ہزار300 میگا واٹ کا شارٹ فال برقرار ہے۔
پنجاب سمیت ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری نہ ہوسکا، 8 سے 14 گھنٹے بجلی کی بندش معمول بن گئی ہے۔
بار بار کی ٹرپنگ سے گھروں میں الیکٹرانکس کا سامان جلنے لگا، گھروں کے پنکھے، ٹیوب لائٹس اور پانی
کی موٹریں خراب ہونے لگیں۔
ذرائع کے مطابق ڈسکوز نے وزارت توانائی کو لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار قرار دے دیا۔
No related posts.